Al-Risala · April 1987 · page 32

یہ فرق کیوں

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۷، صفحہ ۳۲

کے اکثر شہروں میں نظر آتا ہے۔ ہر شہر میں مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ قدیم شہر میں زیادہ ہیں اور جدید شہر میں کم ۔ یہ گویا ایک علامت ہے کہ مسلمان قدیم دور میں دنیا سے آگے تھے ، مگر جدید دور میں وہ دنیا سے پیچھے ہو گئے ۔

موجودہ حیدر آباد کے تین بڑے حصے ہیں ۔ نیا حیدر آباد ، پرانا حیدر آباد ، سکندر آباد ۔ یہاں جو فرقہ وارانہ فسادات ہوتے ہیں وہ سب پرانے حیدر آباد میں ہوتے ہیں ۔ نئے حیدر آباد یا سکندر آباد میں کوئی فساد نہیں ہوتا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نئے حیدر آباد اور سکندر آباد میں زیادہ تر پڑھے لکھے لوگ رہتے ہیں ۔ مگر پرانے حیدر آباد میں معاملہ اس کے برعکس ہے ۔ یہ تجربہ بتاتا ہے کہ " تعلیم " فرقہ وارانہ فساد کے خلاف ایک روک کی حیثیت رکھتی ہے ۔ جو لوگ فی الواقع اس ملک میں فرقہ وارانہ فساد کو ختم کرنا چاہتے ہیں انھیں چاہیے کہ قوم کو تعلیم یافتہ بنانے کی کوشش کریں ۔ جب معاشرہ کے زیادہ لوگ تعلیم یافتہ ہو جائیں گے تو فساد کا سلسلہ اپنے آپ ختم ہو جائے گا ۔ پرانے حیدر آباد کا شاید سب سے بڑا مسئلہ ٹریفک کا ہجوم ہے ۔ تنگ سڑکیں اور زیادہ ٹریفک ، اسی کا دوسرا نام پرانا حیدر آباد ہے ۔ بعض اوقات آدمی محسوس کرتا ہے کہ اگر وہ پیدل چلے تو شاید وہ سواری سے پہلے اپنی منزل پر پہنچ جائے گا ۔ اس سلسلہ میں ایک صاحب نے یہاں کا لطیفہ بیان کیا ۔ ایک شخص پرانے حیدر آباد کے علاقہ سے پیدل گزر رہا تھا ، اتنے میں اس کا کوئی جاننے والا اپنی کار پر ادھر سے گزرا ۔ اس نے اپنی کار روک کر اس آدمی سے کہا کہ گاڑی میں آجائیے ، آگے میں آپ کو آپ کی منزل پر چھوڑ دوں گا ۔ آدمی نے یہ سن کر جواب دیا : آپ کا شکریہ ، مگر مجھے ذرا جلدی ہے ۔

حیدر آباد میں بہت سی تاریخی چیزیں ہیں جن کو دیکھنے کے لیے لوگ کثیر تعداد میں وہاں جاتے ہیں ۔ انھیں میں سے ایک سالار جنگ میوزیم ہے ۔ اس میوزیم میں ۴۰ ہزار سے زیادہ نادر نمونے رکھے ہوئے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ مشرقی دنیا میں یہ اپنی قسم کا واحد میوزیم ہے ۔ اس کو ریاست کے ایک سابق وزیر اعظم نے بنایا تھا ۔

اس میوزیم میں جو چیزیں رکھی گئی ہیں ان میں سے ایک عجیب چیز ایک سنگ مرمر کا مجسمہ ہے ۔ اس مجسمہ میں ایک عورت کو اس حال میں دکھایا گیا ہے کہ وہ نہا کر غسل خانہ سے نکلی

‹ Previous page Next page › Contents of April 1987 All issues

Printed page