یہ فرق کیوں
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۷، صفحہ ۳۳
ہے اور اس کے جسم پر بھیگا ہوا کپڑا لپٹا ہوا ہے ۔ اس مجسمہ کو اس قدر فن کاری کے ساتھ بنایا گیا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سچ مچ کوئی بھیگے کپڑے میں کھڑا ہوا ہے ۔ اس کو دیکھ کر میں نے سوچا : اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر آرٹ کو تخلیق کرنے کی یہ نادر صلاحیت شاید اس لیے رکھی ہے کہ آدمی خالق اصغر کو دیکھ کر خالق اکبر کا تصور قائم کر سکے ۔
حیدر آباد کے ریاستی دور میں جو شخصیتیں ابھریں ان میں سے ایک ہیں نواب عماد الملک مولوی سید حسین بلگرامی (۱۸۴۴ء - ۱۹۲۶ء) وہ نہایت اعلیٰ تعلیم یافتہ آدمی تھے۔ اردو کے علاوہ انگریزی ، فرانسیسی ، عربی ، فارسی زبانیں بھی بخوبی جانتے تھے۔ حیدر آباد ریاست میں وہ مختلف عہدوں پر مامور رہے ۔ آخر میں وہ ناظم تعلیمات تھے ۔ ۳۰۰ سال سے زیادہ مدت تک وہ ریاست کے تعلیمی امور کے ذمہ دار اعلیٰ رہے ۔ بہت سے اعزازات و خطا بات سے سرفراز کیے گیے ۔ ۱۹۱۰ میں انھوں نے قرآن کا انگریزی ترجمہ بھی شروع کیا تھا ۔ مگر وہ نصف قرآن سے زیادہ نہ ہو سکا ۔
نواب عماد الملک نہایت صاف گو آدمی تھے۔ مولوی عبد الحق صاحب نے اپنی کتاب " چند ہم عصر " میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ سابق نظام دکن میر محبوب علی خاں نے اعلیٰ ارکان سلطنت سے پوچھا کہ عوام کا ان کی نسبت کیا خیال ہے ۔ ہر ایک نے تعریف کے پل باندھ دیے ۔ نواب عماد الملک خاموش رہے ۔ مکرر دریافت کرنے پر فرمایا کہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ شراب پئے ہوئے پڑے رہتے ہیں ۔ کام کی طرف بالکل توجہ نہیں کرتے ۔ نظام دکن نے ان کی اس راست گوئی کو پسند کیا اور اس کے صلہ میں ان کو الماس کی ایک بیش قیمت انگوٹھی عطا فرمائی ۔ میر محبوب علی خاں کے بعد ان کے صاحبزادے میر عثمان علی خاں ۱۹۱۱ میں حیدر آباد کے فرماں روا مقرر ہوئے اور خاتمہ ریاست (۱۹۴۸ء) تک اس کے فرماں روا رہے۔ مولوی عبد الحق ۔ صاحب نے نواب عماد الملک کا دوسرا قصہ اس طرح لکھا ہے کہ ایک بار نواب میر عثمان علی خاں آخری فرماں روائے دکن ) نے مسئلہ ازدواج پر بحث کے دوران کہا کہ اسلام میں تعدد ازواج کے بارہ میں سہولت ہے ۔ نواب عماد الملک نے فوراً ٹوکا اور کہا کہ اسلام نے اس معاملہ میں ایسی کڑی شرط لگا رکھی ہے کہ کوئی شخص ایک سے زائد بیوی نہیں رکھ سکتا۔ شاہ دکن اس
‹ Previous page Next page › Contents of April 1987 All issues