Al-Risala · April 1987 · page 34

یہ فرق کیوں

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۷، صفحہ ۳۴

صاف گوئی پر خفا ہو گئے ۔ اس وقت وہ ڈنر پر بیٹھے ہوئے تھے ۔ شاہ دکن نے اسی وقت ان کو ڈنر کی میز سے اٹھا دیا ۔

نواب میر عثمان علی خاں نے اپنے ایک ماتحت کو کھانے کی میز سے اٹھا دیا۔ اگر انہیں معلوم ہوتا کہ بہت جلد وہ خود حکمرانی کی میز سے اٹھائے جانے والے ہیں تو وہ کبھی ایسا نہ کرتے ۔ سرکشی کے تمام واقعات صرف اس لیے ہوتے ہیں کہ آدمی اپنے مستقبل سے بے خبر رہتا ہے۔ آدمی اگر اپنے مستقبل کو جانے تو وہ کبھی سرکشی نہ کرے ۔

حیدر آباد کی تاریخ میں ایک نہایت اہم سبق ہے۔ ریاست کے دور میں یہاں وزیرِ اعظم کے عہدہ پر اکثر کوئی ہندو شخصیت ہوتی تھی۔ مثلاً ایک زمانہ میں مہاراجہ سر کشن پرشاد (وفات ۱۹۴۰) ریاست کے صدر اعظم تھے۔ وہ عربی، فارسی اور انگریزی زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔ تاہم اس سے نیچے کی ملازمتوں میں عام طور پر مسلمان لیے جاتے تھے۔ اس زمانہ میں مسلمانوں کی معاش کا واحد سب سے بڑا ذریعہ سرکاری ملازمت ہی تھی۔

یہ صورت حال ریاست کے ہندوؤں کے لیے ڈس ایڈوانٹیج کی حیثیت رکھتی تھی۔ مگر یہ ڈس ایڈوانٹیج ان کے لیے ایڈوانٹیج بن گیا۔ سرکاری ملازمت سے مایوس ہو کر انہوں نے تجارت کے میدان میں اپنی کوشش شروع کر دی۔ یہاں تک کہ وہ ریاست کی تقریباً پوری تجارت پر قابض ہو گئے۔ یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ ہر محرومی میں ایک نئی شاندار تر کامیابی کا پہلو موجود ہوتا ہے، بشرطیکہ آدمی اس کو دریافت کرے اور اس کی طرف اپنی زندگی کا سفر شروع کر دے۔

حیدر آباد کے سفر کا سب سے زیادہ عجیب واقعہ اس کا ایک چھوٹا سا واقعہ ہے ۔ ۱۵ فروری کی شام کو میں باغ عامہ میں تقریر کر کے نکلا۔ لوگ مصافحہ کرنے کے لیے ہر طرف گھیرے ہوئے تھے۔ اتنے میں ایک نوجوان بھیڑ کو چیرتا ہوا میرے قریب آیا۔ اس نے پوچھا کہ آپ کے نزدیک آپ کی سب سے بہتر تصنیف کون ہے۔ میں نے کہا : میری سب سے بہتر تصنیف آپ ہیں۔ یہ انسان جو میرے سامنے کھڑا ہوا ہے۔ یہی میری سب سے بہتر تصنیف ہے۔ میرا یہ جواب سن کر وہ ایک لمحہ کے لیے چپ رہا ، اس کے بعد بولا : جب آپ مجھ کو اپنی سب سے بہتر تصنیف

‹ Previous page Next page › Contents of April 1987 All issues

Printed page