یہ فرق کیوں
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۷، صفحہ ۳۵
کہتے ہیں تو میں بھی اس تصنیف کو طبع کر کے دکھاؤں گا۔
یہ سن کر میری آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ میں نے کہا کہ خدایا ، تو اس نوجوان کے الفاظ کو پورا کر، اور ایسی بہت سی زندہ تصنیفیں تیار کر دے جو میرے مشن کو لے کر چلیں اور میرے بعد اس کو آگے بڑھائیں ۔
حیدر آباد میں قارئین الرسالہ کا کافی بڑا حلقہ ہے ۔ ان لوگوں نے یہاں ایک خاص کام "بک اسٹال" کا شروع کیا ہے ۔ وہ ہر ہفتہ میں کم از کم دو بک اسٹال ضرور لگاتے ہیں ۔ ایک جمعہ کے دن جامع مسجد کے سامنے ۔ دوسرا اتوار کے دن باغ عامہ کے ہفتہ وار جلسہ میں ۔ یہ طریقہ نہایت مفید ہے ۔ دوسرے مقامات کے لوگوں کو بھی اس کی تقلید کرنی چاہیے ۔ ایک صاحب نے کہا کہ الرسالہ میں آپ کا سفرنامہ چھپتا ہے ۔ اگر ہم سفرنامہ لکھیں تو کیا وہ الرسالہ میں چھپ سکتا ہے ۔ میں نے جواب دیا کہ الرسالہ کا سفرنامہ دراصل سبق نامہ ہوتا ہے ۔ اگر آپ بھی اسی طرح سبق نامہ لکھیں تو انشاء اللہ وہ بھی شائع ہو جائے گا ۔ مسٹر پریم مرارکا ( صنعت کار) کو اپنے ایک مسلم دوست سے انگریزی الرسالہ ملا۔ وہ ان کو اتنا پسند آیا کہ وہ اس کے باقاعدہ قاری ہو گئے ۔ وہ مجھ سے ملے تو انھوں نے بتایا کہ ان کے کئی ہم قوم افراد نے الرسالہ کو دیکھ کر کہا کہ اس کو ہمارے نام بھی جاری کر دو۔ چنانچہ ان کے ذریعہ کئی اور ہندو صاحبان الرسالہ انگریزی کے قاری بن گئے ہیں ۔ مسٹر مرارکا نے کہا کہ الرسالہ کے پہلے پیج پر آپ دو سطر یا تین سطر کی جو بات لکھتے ہیں وہ ایسی ہوتی ہے کہ اس کو پڑھنے کے بعد آدمی اس سے رک نہیں سکتا کہ وہ آگے نہ پڑھے۔
مسٹر مہادیون ریڈی (حمایت نگر) پہلے ایک بڑے سرکاری عہدہ پر تھے ۔ اب وہ ریٹائر ہو چکے ہیں ۔ اردو زبان بخوبی جانتے ہیں ۔ وہ الرسالہ کے باقاعدہ قاری ہیں ۔ انھوں نے بتایا کہ وہ تذکیر القرآن جلد اول کو پانچ بار پڑھ چکے ہیں اور اب اس کو چھٹی بار پڑھ رہے ہیں ۔ تذکیر القرآن کی دوسری جلد کا انھوں نے شدت سے تقاضا کیا۔
مسٹر عزیز احمد خاں ایڈوکیٹ کی رہائش گاہ پر کئی اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمانوں کی مجلس ہوئی اس گفتگو کے دوران جو باتیں معلوم ہوئیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ ۱۹۴۸ء میں جب ریاست
‹ Previous page Next page › Contents of April 1987 All issues