Al-Risala · April 1987 · page 36

یہ فرق کیوں

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۷، صفحہ ۳۶

کا خاتمہ ہوا تو یہاں کے مسلمان بہت پریشان ہوئے۔ کیوں کہ اس وقت تک ان کی معاشیات کا انحصار زیادہ تر سرکاری ملازمت پر تھا اور ریاست کے ختم ہونے کے بعد وہ ملازمتوں سے محروم ہو گئے۔ اس طرح وقتی طور پر تو انھیں سخت تکلیف ہوئی۔ مگر اس محرومی نے انھیں بلند تر کامیابی تک پہنچا دیا۔ ملازمت کے میدان میں راستہ بند پا کر وہ تجارت کے میدان میں داخل ہونے لگے۔ اب چالیس سال کے بعد حیدر آباد کی تجارت میں مسلمانوں کا قابلِ لحاظ حصہ ہو چکا ہے، جب کہ ریاست کے زمانہ میں یہاں کی تجارت میں ان کا کوئی حصہ نہ تھا۔

اکثر لوگ جانتے ہیں کہ وہ انفرادی ناکامی کو کس طرح دوبارہ کامیابی میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس انفرادی تجربہ کو ملی اور اجتماعی معاملات میں استعمال کرنا جانتے ہوں۔

- الرسالة (جنوری ۱۹۸۷ء) میں ایک مضمون شائع ہوا ہے۔ اس کا عنوان ہے "یہ اسلام نہیں"۔ اس مضمون میں مسلمانوں کی اس روش پر تنقید کی گئی ہے کہ کسی آدمی کی ایک بات کو غلط قرار دے کر اس کی جائداد پھونکنے کو جلانے کا سلسلہ شروع کر دیا جائے ۔ اس سلسلہ میں اپنے نقطہ نظر کی تائید میں متعدد واضح آیتوں کے حوالے بھی دیئے گئے ہیں۔ ایک صاحب نے اس مضمون پر اعتراض کیا۔ مگر انھوں نے قرآن یا حدیث کا کوئی حوالہ نہیں دیا۔ میں نے کہا کہ مذکورہ مضمون میں جو بات کہی گئی ہے وہ قرآن و حدیث کی دلیل کے ساتھ کہی گئی ہے۔ آپ قرآن و حدیث کو قرآن و حدیث سے کاٹ سکتے ہیں نہ کہ اپنے خود ساختہ الفاظ سے۔ یہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا عام انداز ہے۔ کسی بات کے حق میں خواہ قرآن و حدیث کے کتنے ہی دلائل پیش کر دیجئے ۔ وہ اس کی تردید کے لیے اس کو کافی سمجھیں گے کہ اپنے خود ساختہ " دلائل " پیش کر دیں۔ حالاں کہ قرآن و حدیث کو اپنے خود ساختہ " دلائل " کے ذریعہ رد کرنا سراسر فعل حرام ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ قرآن و حدیث کے جواب میں قرآن و حدیث پیش کرے ورنہ خاموش رہے ۔

کشن جیونت راؤ پاٹل (عمر ۴۴)، اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ ناندیڑ سے آئے تھے۔ وہ الرسالہ اردو بالکل شروع سے پڑھتے ہیں اور اس کا مکمل فائل نمبر اسے محفوظ کیے ہوئے ہیں۔ ان کی مادری

‹ Previous page Next page › Contents of April 1987 All issues

Printed page