بھارت کی تعمیر
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۷، صفحہ ۱۸
چیز دی جا سکے جس کے بعد ہر چیز ان کی نظر میں چھوٹی ہو جائے۔ دوسروں کے ساتھ اخلاق برتنے کے لیے آدمی کو کچھ کھونا پڑتا ہے۔ آدمی کو اگر کوئی اتنی بڑی چیز مل جائے کہ اس کے مقابلہ میں ہر دوسری چیز چھوٹی نظر آئے تو اس کے لیے اخلاق پر قائم رہنا آسان ہو جائے گا۔ آدمی کو اس قابل بنائیے کہ وہ کھونے کو برداشت کر سکے۔ اس کے بعد وہ اپنے آپ با اخلاق ہو جائے گا۔
ایک مغربی ملک کا واقعہ ہے۔ ایک کسٹم افسر نے ایک شخص کو پکڑا جو ایک خلاف قانون چیز ملک کے اندر لے جانا چاہتا تھا۔ آدمی نے کسٹم افسر سے کہا کہ پانچ ہزار ڈالر لے لو اور مجھ کو چھوڑ دو۔ کسٹم افسر بگڑ گیا۔ اس نے کہا کہ دس ہزار ڈالر لو۔ کسٹم افسر اور زیادہ بگڑ گیا آدمی مزید قیمت بڑھاتا گیا۔ ۲۰ ہزار ڈالر، ۲۵ ہزار ڈالر، ۳۰ ہزار ڈالر، پچاس ہزار ڈالر یہاں تک کہ اس نے کہا کہ ۸۰ ہزار ڈالر لے لو۔ اور چھوڑ دو۔ آدمی نے جب "۸۰ ہزار ڈالر" کہا تو کسٹم افسر کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ ایک لمحہ وہ رکا اور اس کے بعد چیخ کر بولا : ظالمو، تم میری قیمت کے قریب پہنچ گئے ہو ۸۰ ہزار ڈالر کا لفظ سن کر کسٹم افسر کے اندر ایک نیا خیال پیدا ہو گیا۔ اس نے سوچا کہ سالہا سال تک سروس کرنے کے بعد بھی میں ۸۰ ہزار ڈالر بچا نہیں سکوں گا۔ اور یہ شخص مجھے ایک منٹ کے اندر ۸۰ ہزار ڈالر دے رہا ہے۔ پھر میں کیوں نہ اس کو قبول کر لوں۔ پانچ ہزار ڈالر اور دس ہزار ڈالر نے اس کو اندر سے نہیں ہلایا تھا۔ مگر ۸۰ ہزار ڈالر کی پیش کش نے اس کو اندر سے ہلا دیا۔ اس کے اندر جو اخلاقی بنیاد موجود تھی وہ متزلزل ہو کر رہ گئی۔ یہی ہر آدمی کا حال ہے۔ ہر آدمی کی قیمت کہیں نہ کہیں لگ جاتی ہے۔ اور جہاں آدمی کی قیمت لگ جائے بس وہیں اس کے اندر اخلاقی بنیاد ختم ہو جاتی ہے۔ وہ اصول کے بجائے مفاد کا بندہ بن کر رہ جاتا ہے۔
کچھ لوگ ہیں جو سماجی پوزیشن کی خاطر با اخلاق ہوتے ہیں۔ وہ اپنے عام رویہ اور روزمرہ کی ملاقات میں بظاہر اچھے بنے رہتے ہیں تاکہ لوگ انھیں اچھا سمجھیں مگر یہ اخلاق کے لیے بہت کمزور بنیا د ہے ایسے لوگوں کا اخلاق نہایت وقتی اخلاق ہوتا ہے۔ جیسے ہی کوئی
‹ Previous page Next page › Contents of January 1987 All issues