Al-Risala · April 1987 · page 37

یہ فرق کیوں

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۷، صفحہ ۳۷

زبان مرہٹی ہے ۔ وہ پہلے ایک لفظ اردو نہیں جانتے تھے ۔ جولائی ۱۹۷۵ء میں ان سے میری پہلی ملاقات ناندیر میں ہوئی تھی ۔ ان سے کئی مفید گفتگوئیں ہوئیں ۔ میں نے کہا کہ میں ایک اردو ماہنامہ نکالنے والا ہوں ۔ وہ اتنے متاثر تھے کہ انھوں نے یہاں ۱۵ فروری کی ملاقات میں بتایا کہ جیسے ہی آپ میرے وطن ( ناندیر ) سے روانہ ہوئے ، میں نے اسی وقت اردو سیکھنے کے لیے ماسٹر کا انتظام کیا تا کہ جب الالرسالہ نکلے تو میں اس کو براہ راست پڑھ سکوں ۔ چنانچہ اب وہ الرسالہ کو صد فی صد براہ راست اردو سے سمجھ لیتے ہیں ۔ وہ اپنے ساتھ ایک اور شخص گنگا دھر ملا گُڑ ( عمر ۴۰ ) کو بھی لائے تھے ۔ وہ اردو ایک لفظ پڑھ نہیں سکتے ۔ تاہم وہ ان کو رسالہ کے مضامین پڑھ کر سناتے ہیں اور مرہٹی زبان میں ان کے سامنے اس کی وضاحت کرتے ہیں ۔ میں نے ان سے پوچھا کہ الرسالہ سے آپ کو کیا خوراک ملی ۔ انھوں نے کہا کہ ” الرسالہ سے سوچنے کا ذہن بدل گیا “۔ پہلے میں ایک جانور کی طرح تھا ۔ میرا مقصد تھا کہ کماؤ کھاؤ ، اب الرسالہ پڑھنے سے مجھے زندگی کا مقصد مل گیا ۔ کشن پٹیل صاحب نے اردو سیکھنے کے لیے بے پناہ محنت کی ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ اردو کے الفاظ اور حروف تہجی کو میں گھنٹوں یاد کیا کرتا تھا ، یہاں تک کہ میرے جبڑوں میں درد پیدا ہو گیا ۔ وہ نہایت سمجھ دار اور محنتی آدمی ہیں ۔ دیر تک ان سے باتیں ہوتی رہیں ۔

حبیب بھائی نے کہا کہ میں ایک آفس میں گیا ۔ وہاں دیوار پر ایک قدرتی منظر کی تصویر تھی ، اس کے نیچے لکھا ہوا تھا کہ اگر تم میری خاموشی کو نہیں سمجھ سکتے تو تم میرے الفاظ کو بھی ہرگز نہیں سمجھوگے :

If you don't understand my silence, you will never understand my words. یہ قول بہت با معنی ہے ۔ الفاظ کسی حقیقت کا نہایت کم تر اظہار ہوتے ہیں ۔ کسی حقیقت کی گہرائی کو صرف وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو الفاظ سے زیادہ سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں ۔ جن کے لیے خاموشی بول بن جائے ۔ جو بین السطور کو بھی اسی طرح پڑھ لیں جس طرح کوئی شخص سطور کو پڑھتا ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1987 All issues

Printed page