یہ فرق کیوں
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۷، صفحہ ۳۸
حبیب بھائی نے بتایا کہ ہمارے دادا یہ کہا کرتے تھے کہ ہر روز کوئی نئی بات سیکھا کرو خواہ وہ گرہ دینے کا نیا طریقہ کیوں نہ ہو۔ یہ بہت گر کی بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی میں ٹھہراؤ نہیں۔ آدمی یا تو نیچے گرے یا اوپر اٹھے گا۔ ایسی حالت میں ارتقاء کو باقی رکھنے کی واحد تدبیر یہ ہے کہ آدمی ہر روز کوئی نئی بات دریافت کرے، وہ اپنے ذہنی سفر کو مسلسل جاری رکھے۔ حیدر آباد کی تقریریں اور گفتگوئیں زیادہ تر چند قسم کے موضوعات پر رہیں۔ اول، ایمانیات کو جگانا۔ قرآن وحدیث کے جو درس ہوئے ان سب کا انداز یہی تھا۔ دوم، اسلام اور عصر حاضر اس عنوان کے تحت یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی کہ اسلام ایک ابدی دین ہے۔ زمانہ کی ترقیاں اس کی صداقت کو مزید واضح کرتی جارہی ہیں۔ سوم، تعمیر ملت ۔ اس عنوان کے تحت یہ بتایا گیا کہ مسلمانوں کے لیے اس ملک میں راہیں بند نہیں ہیں۔ بلکہ پوری طرح کھلی ہوئی ہیں۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ حالات کو سمجھ کر ہوش مندی کے ساتھ کام کیا جائے۔ چہارم، اسلامی دعوت۔ اس سلسلہ میں خصوصی طور پر یہ واضح کیا گیا کہ مسلمان اور دیگر اقوام کا رشتہ داعی اور مدعو کا رشتہ ہے نہ کہ حریف اور رقیب کا رشتہ۔ ہمیں دوسری اقوام کی ہدایت کا حریص ہوناچاہیے۔ نہ کہ ہم ان کو دشمن سمجھ کر ان سے نفرت کریں یا ان کے خلاف بد دعا دیں۔ میں نے کہا کہ مدعو پر اتمام حجت کے بغیر جو بد دعا کی جائے وہ کبھی قبول ہونے والی نہیں، خواہ سو برس تک ایسی دعا کی جائے اور خواہ تمام اصاغر اور اکابر اس پر آمین کہہ رہے ہوں ۔
۱۴ فروری کو پریس کانفرنس تھی۔ ابتداء ًمیں نے ملکی حالات پر تبصرہ کیا اور اس ذیل میں اسلامی مرکز کے مقاصد بیان کیے۔ اس کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا جو دیر تک قائم رہا۔
دوسری باتوں کے علاوہ میں نے ایک بات یہ کہی کہ نیشنل پریس میں ہندوستان کے مسلمانوں کی تصویر بہت ادھوری شکل میں پیش کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر ٹائمز آف انڈیا (۳ جنوری ۱۹۸۷) میں ہندوستانی مسلمانوں کو شور و غل کرنے والا گروہ (Clamorous group) بتایا گیا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ بات بذات خود غلط نہیں ہے۔ مگر اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں تھوڑے سے جو شور و غل کرنے والے لوگ ہیں انہیں کو نیشنل پریس میں نمایاں کیا جاتا ہے ۔ ان کے علاوہ
‹ Previous page Next page › Contents of April 1987 All issues