Al-Risala · April 1987 · page 39

یہ فرق کیوں

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۷، صفحہ ۳۹

مسلمانوں کا زیادہ بڑا طبقہ وہ ہے جو کسی نہ کسی اعتبار سے تعمیری کاموں میں لگا ہوا ہے۔ مگر اس کو نیشنل پریس میں نمایاں نہیں کیا جاتا۔ اس کی وجہ غالباً موجودہ صحافت کا انداز ہے۔ کیوں کہ ہمارے اخبارات میں تخریبی واقعات کو زیادہ جگہ دی جاتی ہے۔ " سیف لینڈنگ " آپ کے نزدیک خبر نہیں۔ لیکن " ہائی جیکنگ " ہو تو وہ آپ کے نزدیک خبر بن جاتی ہے ۔ اس سلسلہ میں میں نے مسلمانوں کی کئی تعمیری سرگرمیوں کی مثالیں دیں۔ انھیں میں سے ایک یہ ہے کہ ہمارے عربی اور دینی مدارس ایک عظیم الشان تعمیری کام انجام دے رہے ہیں۔ وہ لاکھوں نوجوانوں میں اخلاقی شعور پیدا کرتے ہیں اور اس طرح ملک میں اخلاقی روایت کو باقی رکھنے کا واحد سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ ہمارے مدارس کا پڑھا ہوا آدمی جب باہر آتا ہے تو بازار میں، بس اور ٹرین میں اور مختلف عوامی مواقع پر وہ اخلاقی انضباط کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اس طرح وہ ملک میں گرتی ہوئی اخلاقی قدروں کو بچای کرنے کا اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مگر ملکی اخبارات کو پڑھنے والے لوگ اس واقعہ سے بالکل بے خبر ہیں ۔ اسی طرح تبلیغی جماعت نے لاکھوں لوگوں کو خارجی جھگڑوں سے ہٹا کر اندرونی اصلاح کی طرف متوجہ کیا ہے۔ مگر اخبار میں طبقہ کو اس کی کوئی خبر نہیں۔ کیوں کہ یہ لوگ اخباروں میں صفحہ اول کی سرخی نہیں بنتے۔ میں نے کہا کہ ہمارے اخبارات کو مسلمانوں کی صحیح تصویر پیش کرنی چاہیے۔ حیدر آباد کے علاوہ محبوب نگر میں بھی اجتماعات ہوئے۔ ان کا نقشہ اگلے صفحہ پر درج ہے یہاں کا ہر اجتماع خدا کے فضل سے کافی کامیاب رہا۔ خاص طور پر تعلیم یافتہ اور باشعور طبقہ بڑی تعداد میں شریک رہا۔ لوگوں نے بتایا کہ جو افراد ان اجتماعات میں آئے وہ عام طور پر مسلم مقررین کے اجتماع میں کبھی دیکھے نہیں جاتے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملت کا اعلیٰ ذہن نہایت سنجیدگی کے ساتھ اسلامی مرکز اور الرسالہ کی دعوت کا مطالعہ کر رہا ہے ۔ یہاں کے اجتماعات اور تقریروں کی رپورٹیں مقامی اخبارات رہنمائے دکن، سیاست اور منصف وغیرہ میں روزانہ تفصیل کے ساتھ شائع ہوتی رہیں۔ ایک صاحب ایک روز روزنامہ سیاست ( ۱۵ فروری ۱۹۸۷ ) کا ایک پرچہ لے آئے۔ اس میں میری ایک تقریر شائع ہوئی تھی ۔ رپورٹر نے اس کی سرخی حسب ذیل الفاظ میں قائم کی تھی :

‹ Previous page Next page › Contents of April 1987 All issues

Printed page