یہ فرق کیوں
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۷، صفحہ ۴۱
یہ اگرچہ ایک ہی درخت ہے۔ مگر وہ اس طرح پھیل پھیل کر زمین میں اگا ہے کہ ایک درخت کئی درخت معلوم ہونے لگا ہے۔
اس علاقہ کو از سر نو منظم کیا جارہا ہے۔ کلکٹر نے ہندوؤں اور عیسائیوں اور مسلمانوں سے کہا کہ یہاں ہر مذہب کے لیے زمین دیں گے۔ آپ لوگ اپنے اپنے طرز پر یہاں عبادت گاہ بنائیں ۔ ہندوؤں اور عیسائیوں نے اس کو فوراً قبول کر لیا۔ میں نے دیکھا کہ وہاں جدید طرز کا ایک چرچ زیر تعمیر ہے۔ مگر معلوم ہوا کہ مسلمان ابھی تک اس پیش کش کو استعمال نہ کر سکے۔ میرا اندازہ ہے کہ آئندہ یہ جگہ ترقی کرے گی اور یہاں کی زمینیں کافی مہنگی ہو جائیں گی ۔ یہاں کے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس موقع کو نہ کھوئیں ۔ اگر انہوں نے بروقت اس موقع کو کھو دیا تو آئندہ یہاں مسجد کی تعمیر بے حد مشکل ہو جائے گی۔ یہاں سیاح آتے رہتے ہیں جن میں مسلمان بھی ہوتے ہیں۔ نیز مقامی اداروں میں مسلمان کارکن بھی موجود ہیں ۔ ایسے تمام لوگوں کے لیے یہاں مسجد کی تعمیر بہت مفید ثابت ہوگی ۔
محبوب نگر میں ایک مسلمان تاجر اپنی رائس مل دکھانے کے لیے لے گئے ۔ انھوں نے جدید طرز کی مشینیں لگائی ہیں ۔ انھوں نے بتایا کہ دھان کو چاول میں تبدیل کرنے کے لیے اس کو سات مرحلوں سے گزارنا پڑتا ہے ۔ میں نے کہا کہ یہ قدرت کا ایک سبق ہے۔ اس طرح قدرت تدریج کی اہمیت کو بتاتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر کامیابی تدریجی طریق کار کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے ۔ جو لوگ چھلانگ کے ذریعہ یکایک اپنی منزل پر پہونچنا چاہیں وہ کبھی منزل مقصود کو نہیں پہونچتے ۔
تاجر آدمی عملی آدمی ہوتا ہے ، اس لیے وہ عملی باتوں کو بہت جلد سمجھ لیتا ہے ۔ محبوب نگر کے ایک مسلمان تاجر نے کہا کہ فرقہ وارانہ مسئلہ کا زیادہ یقینی حل یہ ہے کہ برادران وطن سے اچھے تعلقات قائم کیے جائیں ۔ حکومت کے خلاف تقریریں یا حکومت کے ارکان کی طرف دوڑ دھوپ سے زیادہ مفید اور اہم بات یہ ہے کہ برادران وطن سے تعلقات بڑھائے جائیں ۔ اپنی رائے کی تائید میں انھوں نے کئی واقعات بتائے ۔
یہ نہایت صحیح بات ہے۔ مسلمانوں نے حکومت کے خلاف سرگرمیوں میں جتنی طاقت
‹ Previous page Next page › Contents of April 1987 All issues