یہ فرق کیوں
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۷، صفحہ ۴۲
صرف کی ہے ، اتنی طاقت اگر وہ برادران وطن سے تعلقات استوار کرنے میں صرف کرتے تو اب تک ان کے تمام مسائل حل ہواچکے ہوتے۔
میں نے ایک گفتگو میں دعوت عام کی اہمیت پر زور دیا۔ اس کے بعد ایک صاحب نے کہا کہ مسلمان تو خود ہی اسلام سے دور ہیں ، وہ دوسروں کو اسلام کی طرف کیا بلا سکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ ایک نہایت مہلک غلط فہمی ہے جو شیطان نے موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے ذہن میں ڈال رکھی ہے۔ کوئی شخص مسلمانوں کو دیکھ کر اسلام قبول نہیں کرتا بلکہ حق کو دیکھ کر اسلام قبول کرتا ہے ۔ میں نے یوسف اسلام (انگریز) اور دوسرے بہت سے نو مسلموں کے حالات کو جاننے کی کوشش کی۔ مجھے معلوم ہو کہ ہر ایک نے یہ جانتے ہوئے اسلام قبول کیا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی دینی اور اخلاقی حالت بہت گر چکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی شخص مسلمانوں کے لیے اسلام قبول نہیں کرتا بلکہ اس لیے اسلام قبول کرتا ہے کہ اسلام کی ابدی سچائی کے ساتھ وہ اپنے آپ کو وابستہ کر سکے۔
ایک صاحب نے کہا کہ آپ کے اوپر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ آپ کو بھارت سرکار سے روپیہ ملتا ہے تاکہ آپ مسلمانوں کو ڈیمورالائز کریں ۔
میں ابھی خاموش تھا کہ مجلس کے ایک صاحب نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ تو الٹی بات کہہ رہے ہیں ۔ الرسالہ تو مسلمانوں کے مورال کو بلند کر رہا ہے ۔ پھر کیا آپ کا خیال ہے کہ بھارت سرکار یہ چاہتی ہے کہ مسلمانوں کے مورال کو بلند کیا جائے ۔ انھوں نے مزید کہا کہ آپ الرسالہ کو غور سے پڑھیے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ الرسالہ مسلم نوجوانوں کو اٹھانا چاہتا ہے، وہ مسلم نوجوانوں کے اندر ہیرو وانا کردار پیدا کرنا چاہتا ہے ۔ تحریک کسی کی مدد سے چلے تو مدد دینے والے کے خلاف ہیرو نہیں بنائے جاتے ۔ بلکہ ایک نا اہل قوم تیار کی جاتی ہے ۔ اسلامی مرکز کی مطبوعات کا ایک ایک صفحہ مسلم نوجوانوں کی کردار سازی کرتا ہے۔ بلکہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ ان کو ہیرو بنا رہا ہے ۔ وہ ان کے اندر اعلیٰ اخلاقی جذبہ ابھارنا چاہتا ہے ۔ وہ ان کے اندر صحیح اسلامی فکر پیدا کر رہا ہے ۔ پھر کیا بھارت سرکار کی خواہش یہی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی مرکز کے خلاف اس قسم کا پروپیگنڈا کرنے والے لوگ خود وہ کام کر رہے ہیں جس کا الزام
‹ Previous page Next page › Contents of April 1987 All issues