Al-Risala · April 1987 · page 24

یہ فرق کیوں

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۷، صفحہ ۲۴

وہ اسلامی مرکز پر لگاتے ہیں ۔ وہ مسلمانوں کو تعمیری فہم سے ہٹا کر تخریبی رخ پر ڈالنا چاہتے ہیں جو یقینی طور پر صرف بربادی کا راستہ ہے ۔

۱۷ فروری ، ۱۹۸۰ء کی شام کو فلائٹ نمبر ۵۳۹ کے ذریعہ دہلی کے لیے واپسی ہوئی۔ راستہ میں میری سیٹ سے ملی ہوئی سیٹ پر مسٹر ڈی پی گپتا تھے ۔ وہ بھارت ہیوی الیکٹریکلس لمیٹڈ (BHEL) میں جنرل منیجر (ٹرانس میشن) ہیں ۔ پورے راستے میں ان سے باتیں ہوتی رہیں ۔ ان کی باتوں سے اندازہ ہوا کہ وہ نہایت لائق افسر ہیں اور انتہائی دیانت اور محنت کے ساتھ اپنا کام انجام دے رہے ہیں ۔ مزید سوالات کے دوران معلوم ہوا کہ اس کی خاص وجہ ان کا مذہبی بیک گراؤنڈ ہے۔ ان کے والد نہایت قابل آدمی تھے۔ وہ انگریزی اور ہندی کے علاوہ عربی اور فارسی بھی جانتے تھے ۔ حتیٰ کہ قرآن کے کئی حصے کا انھوں نے حافظ کیا تھا اور ان کو پڑھتے رہتے تھے ۔ خود مسٹر گپتا بھی اچھی اردو جانتے ہیں ۔

اس گفتگو سے میں نے اندازہ کیا کہ موجودہ زمانہ میں دفتروں میں کارکردگی گھٹنے کی خاص وجہ یہ ہے کہ نئی نسلیں مذہبی اور روحانی روایتیں سے کٹ گئیں ۔ جدید نسل کو دوبارہ امانت دار اور محنتی بنانے کی واحد شکل یہ ہے کہ از سر نو سماج کے اندر مذہبی اور روحانی روایات قائم کی جائیں ۔ اس مسئلہ کا اس کے سوا کوئی دوسرا حل نہیں ۔

دوسری بات یہ کہ پچاس برس پہلے کے ہندوستان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے تعلقات اتنے اچھے تھے کہ ہندو عربی اور فارسی زبانیں پڑھتے تھے ۔ حتیٰ کہ قرآن کی سورتیں یاد کرتے تھے ۔ نادان قسم کے مسلم لیڈروں کی سیاست نے اس فضا کو بالکل برباد کر دیا۔ یہ صحیح ہے کہ اس زمانہ میں بعض اوقات ناخوش گوار واقعات پیش آتے تھے ۔ مگر ایسے واقعات ہر سماج میں اور ہمیشہ پیش آتے ہیں۔ یہ واقعات یقینی طور پر انفرادی ہوتے تھے اور ضروری تھا کہ ان محدود واقعات کو محدود دائرہ میں رکھ کر دیکھا جائے ، ان کو بڑھا چڑھا کر قومی اور ملکی مسئلہ نہ بنایا جائے۔ مگر ہمارے نادان لیڈروں نے انتہائی غیر ذمہ دارانہ طور پر ان جزئی نوعیت کی باتوں کو اتنا بڑھایا کہ دونوں فرقوں کے درمیان ناقابل عبور دوری حائل ہو گئی ۔ یہ غیر اہم باتوں کو اہم بنانا تھا۔ اور جو لوگ ایسا کریں ان کے لیے یہی مقدر ہے کہ وہ موجودہ دنیا میں کبھی کوئی کامیابی

‹ Previous page Next page › Contents of April 1987 All issues

Printed page