یہ فرق کیوں
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۷، صفحہ ۴۴
اصل نہ کر سکیں ۔
سفر سے واپسی کے بعد وہاں سے مختلف تاثراتی خطوط موصول ہوئے ہیں ۔ یہاں دو خط نقل کیے جاتے ہیں مولانا محمد امیر اللہ خاں قاسمی (محبوب نگر) اپنے خط مورخہ ۱۲ مارچ ۱۹۸۷ میں لکھتے ہیں : آپ کی آمد مسلمانوں محبوب نگر کے لیے غیر معمولی مسرت اور خوشی کا سامان ہوئی ۔ دو گھنٹے کی طویل تقریر کو جس دل چسپی اور شوق سے سنا گیا ، میری نظر میں محبوب نگر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ دیکھنے میں آیا ہے ۔ تقریر کا غیر معمولی تاثر ہوا۔ باشعور اور سنجیدہ لوگوں نے پھر آپ کی آمد کا پروگرام بنانے کے لیے مجھے پا بند کیا۔
آپ جس کام اور پیغام کو لے کر اٹھے ہیں وہ اس زمانہ کا نہایت ضروری کام ہے اور وقت کا اہم تقاضا بھی یہی ہے۔
إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَلَغَ هُذَا الأَمْرَ أَوْ سَيَبْلُغُهُ حَيْثُ مَبْلَغِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ عظمتِ قرآن قرآن جو کتاب بھی ہے اور ایک عالمگیر مطالعہ کا عملی اہتمام ، اور تہديب و تشکیل کے پر آشوب دور کا آئینہ ! مولانا محمد امیر اللہ خاں اللہ اکبر خدا کی تلاش کا سفر ، خدا کی معرفت کا بیان الله مولانا محمد امیر اللہ خاں مطبع فرقان ، محلہ عید گاہ، حیدر آباد خدا کو پا نا سب سے بڑی حقیقت کو پا نا ہے۔ کوئی آدمی جب خدا کو پا تا ہے تو یہ اس کے لیے ایک ایسی دریافت ہوتی ہے جو اس کی پوری زندگی کو ملا دیتی ہے۔ وہ ایک ناقابل بیان ربانی نور میں نہا اٹھتا ہے وہ ایک نیا انسان بن جاتا ہے۔ اس کی سوچ ، اس کا عمل اور اس کی تمام کارروائیاں ایک ایسے انسان کی کارروائیاں بن جاتی ہیں جو خدا کے ظہور سے پہلے خدا کو اپنی آنکھوں سے دیکھے لے۔
قرآن اپنی ذات میں اس بات کی دلیل ہے کہ وہ خدا کی کتاب ہے ۔ وہ اُسی ابتدائی صورت میں کامل طور پر محفوظ ہے جیسا کہ وہ ساتویں صدی عیسوی میں پیغمبر عربی صلی اللہ علیہ وسلم پر اترا تھا ۔ ان خصوصیات نے قرآن کے پیغام کو اتنا طاقتور بنا دیا ہے کہ جب بھی وہ دنیا کے سامنے اپنی اصلی شکل میں لایا جائے گا وہ اقوامِ عالم کو مسخر کر لے گا ۔ ہدیہ : ۲۰ روپیہ ہدیہ : ۲۵ روپیہ مکتبہ الرساله سی ۲۹ نظام الدین ویسٹ نئی دہلی ۱۱۰۰۱۳
‹ Previous page Next page › Contents of April 1987 All issues