بھارت کی تعمیر
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۷، صفحہ ۱۹
ذاتی انٹرسٹ کا موقع پیدا ہوتا ہے ۔ ان کی حد آ جاتی ہے ۔ وہ ذاتی فائدہ حاصل کرنے کی خاطر اخلاقی اصول کو بھول جاتے ہیں ۔
ایک شخص سرکاری دفتر میں کلیدی عہدہ (Key post) پر تھا۔ اس کے یہاں ایک صاحب کی فائل تھی ۔ ان کا کیس بالکل جائز کیس تھا مگر وہ ان کو پریشان کر رہا تھا تاکہ وہ اس کو ایک بڑی رقم رشوت میں دیں ۔ یہ صاحب اپنے جاننے والے ایک شخص سے ملے جن کے متعلق ان کو پتہ تھا کہ وہ مذکورہ سرکاری ملازم کے دوست ہیں ۔ ان سے اپنی مصیبت بیان کی ۔ انھوں نے کہا کہ بہت اچھا میں اس سے ملوں گا ۔
یہ صاحب ایک روز مذکورہ سرکاری ملازم کے یہاں گئے۔ ملازم خندہ پیشانی سے ملا ۔ اس نے چائے اور سگریٹ پیش کیا۔ مگر جب آنے والے نے اس سے اپنی ضرورت بیان کی تو فوراً اس کا چہرہ بدل گیا۔ طرح طرح کی قانونی موشکافیاں بنا کر اس نے عذر کر دیا۔ وہ مذکورہ شخص کو جان بوجھ کر صرف اس لیے پریشان کر رہا تھا کہ وہ اس کو ایک بڑی رقم رشوت کے طور پر دے ۔ ایسی حالت میں رقم لیے بغیر وہ فائل کیسے واپس کر دیتا ۔ مذکورہ سرکاری افسر ابتداً بڑا با اخلاق تھا۔ مگر جب فائل کا مسئلہ طے کرنے کی بات آئی تو اس کے اخلاق کی حد آ گئی۔ وہ صرف اس وقت تک با اخلاق تھا جب تک اس کے ذاتی مفاد پر زد نہ پڑ رہی ہو ۔ جب ذاتی مفاد خطرے میں آ جائے تو پھر اس کے نزدیک اخلاق کی کوئی قیمت نہ تھی ۔
مغربی ملکوں میں بظاہر اس قسم کی بداخلاقی نہیں ہے ۔ وہاں دفتروں میں بغیر رشوت کے کام ہوتا ہے ۔ عام طور پر لوگ اپنی ڈیوٹی صحیح طور پر انجام دیتے ہیں۔ پولیس کا آدمی کسی کو ناجائز کام کرتے ہوئے پکڑے تو اس آدمی کو معلوم ہے کہ وہ پولیس والوں کی جیب میں نوٹ ڈال کر ان کی گرفت سے نہیں بچ سکتا ۔ روزمرہ کی زندگی میں جو بد عنوانیاں (Corruption) ہمارے ملک میں نظر آتی ہیں وہ مغربی ملکوں میں عام طور پر دکھائی نہیں دیتیں ۔
تاہم یہ اخلاق قومی مفاد کی بنیاد پر بنا ہے اس لیے اس کی بھی حد آ جاتی ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1987 All issues