Man Know Thyself
الرسالہ، مئی ۱۹۸۷، صفحہ ۳۴
سرینام کی مجموعی آبادی میں بیس فی صد مسلمان ہیں۔ اور پورے ملک میں ایک سو سے زیادہ باقاعدہ مسجدیں موجود ہیں۔ رپورٹ کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے :
The immigration of Muslims in Surinam occurred in the 17th century when the African slaves were brought by the European slave traders to work in the fields. Many of these Africans were Muslims and when they arrived, they tried the utmost to keep their faith alive. سرینام میں مسلمانوں کی مہاجرت ۱۷ ویں صدی عیسوی میں ہوئی ۔ جب کہ یورپ کے بردہ فروش افریقی غلاموں کو لے آئے تاکہ وہ یہاں کے کھیتوں میں کام کر سکیں ۔ ان افریقیوں میں اکثر مسلمان تھے اور جب وہ یہاں آئے تو انھوں نے پوری کوشش کی کہ وہ اپنی دینی حیثیت کو باقی رکھ سکیں ۔ یہ واقعہ جس کا ذکر یہاں سرینام کے ذیل میں کیا گیا ہے ، یہی موجودہ زمانہ میں تمام دنیا میں پیش آیا۔ موجودہ زمانہ میں جب مغربی قومیں ابھریں اور انھوں نے تمام دنیا کو زیر کر لیا تو وہ اپنے مقبوضہ ملکوں (ہندوستان ، افریقہ وغیرہ) سے لاکھوں انسانوں کو لے گیے تاکہ انھیں اپنے زیر قبضہ علاقوں میں بطور مزدور استعمال کر سکیں۔ اس طرح مسلمان اچانک ساری دنیا میں پھیل گیے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ساری دنیا میں آسٹریلیا سے لے کر باربیڈوز تک ہر جگہ مسلمانوں کی آبا دیاں پائی جاتی ہیں ۔
یہی واقعہ اس سے پہلے تاتاریوں کے زمانہ میں پیش آیا تھا۔ تاتاریوں نے فتح کے بعد کثیر تعداد میں مسلمان عورتوں اور مسلمان مردوں کو غلام بنایا ۔ تاہم اس وقت لوگوں کے اندر اسلام زندہ تھا ۔ یہ مسلمان مرد اور عورت جہاں پہنچے وہاں انھوں نے تاتاریوں کے درمیان خاموش تبلیغ شروع کر دی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صرف دو نسل کے اندر بیشتر تاتاری مسلمان ہو کر اسلام کے پاسبان بن گیے۔
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں اگر دعوتی ذہن ہوتا تو وہی واقعہ دوبارہ نئی شکل میں پیش آتا، جو تاتاریوں کے زمانے میں پیش آیا۔ جن مغربی قوموں کو اسلام دشمن قرار دے کر ہم ان کے خلاف بے معنی احتجاج میں مشغول ہیں ، وہ قومیں آج اسلام کے دائرہ میں داخل ہو کر اسلام کی پاسبان بن چکی ہوتیں ۔