Man Know Thyself
الرسالہ، مئی ۱۹۸۷، صفحہ ۳۵
۸ ستمبر کی شام کو ایک ہندوستانی مسلمان سے ملاقات ہوئی ۔ وہ لندن سے روانہ ہو کر یہاں پہونچے۔ انھوں نے بتایا کہ دہلی میں دوبارہ فساد ہو گیا ہے ۔ اور اس فساد کا رخ مسلمانوں کی طرف ہے ۔ اگر چہ بعد کی تحقیق نے بتایا کہ یہ خبر صحیح نہ تھی ۔
ہندوستان کے فرقہ وارانہ فسادات میں مسلمانوں کا سارا غصہ ہمیشہ " فسادیوں " کے خلاف ہوتا ہے۔ مگر ذاتی طور پر میں ان فسادات کا ذمہ دار مسلمانوں کو سمجھتا ہوں ۔ اس لیے میرے تمام احساسات کا رخ صرف مسلمانوں کی طرف رہتا ہے۔ مجھے مسلمانوں کی حالت پر افسوس ہوتا ہے کہ وہ حقائق کی دنیا میں حقائق سے بالکل بے پروا ہو کر زندہ رہنا چاہتے ہیں۔
ان فسادات کی جڑ میرے نزدیک یہ ہے کہ مسلمانوں نے ملک کو تقسیم کر لیا ، مگر وہ تقسیم کے نتائج قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ملک کو ”ہندو انڈیا “ اور ”مسلم انڈیا “ میں تقسیم کرنے کا لازمی مطلب یہ تھا کہ مسلمان ” ہندو انڈیا “ میں اپنے لیے نمبر ۲ کی حیثیت قبول کرنے پر راضی ہیں۔ اگر مسلمانوں نے خود اپنے عمل کے اس نتیجہ کو ۱۹۴۷ء کے بعد قبول کر لیا ہوتا تو حالات معمول پر آجاتے اور ملک کی تاریخ فرقہ وارانہ فساد کے بجائے فرقہ وارانہ تعمیر کی تاریخ ہوتی۔ (واضح ہو کہ نمبر ۲ کی حیثیت کا مطلب مسلمانوں کا درجہ گرانا نہیں ، بلکہ صرف حقیقت واقعہہ کا اعتراف کرنا ہے۔ مگر ملک کی جدید تاریخ کا یہ عجیب حادثہ ہے کہ پاکستان کے ایک کم درجے سے زیادہ ہندوؤں نے پاکستان میں اپنے لیے عین اسی حیثیت کو قبول کر لیا جو نئے حالات کا تقاضا تھا ، حالاں کہ انھوں نے تقسیم کا مطالبہ نہیں کیا تھا ۔ مگر ہندوستان کے مسلمان ہندوستان میں اپنے آپ کو نئے حالات کے مطابق بنانے میں کامیاب نہ ہو سکے ، اگر چہ یہی وہ لوگ تھے جنھوں نے یک طرفہ طور پر تقسیم کی تحریک چلائی ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہندوستانی مسلمان تقسیم سے پہلے جن خود ساختہ مسائل سے دوچار تھے ، تقسیم کے بعد بھی وہ انھیں خود ساختہ مسائل میں مبتلا ہیں۔ حقیقت واقع کا اعتراف اس دنیا میں آدمی کے لیے زندگی کے دروازے کھولتا ہے ۔ ہندوستانی مسلمان حقیقت واقعہ کے اعتراف کے لیے تیار نہیں ، اس لیے زندگی کے دروازے بھی اب تک ان کے لیے نہیں کھلے۔ مسلمانوں نے اس ملک میں چالیس قیمتی سال کھو دیے ہیں ۔ اگر وہ اپنے مزاج کو نہ بدلیں تو وہ اگلے چالیس سال بھی کھو دیں گے۔ موجودہ مزاج کے ساتھ مسلمانوں کے لیے اپنے مستقبل کی