Man Know Thyself
الرسالہ، مئی ۱۹۸۷، صفحہ ۳۶
کامیاب تعمیر ممکن نہیں ۔
بنگلہ دیش کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا : مسلم ممالک کا المیہ یہ ہے کہ اس وقت کسی بھی مسلم ملک میں کوئی طاقت ور قائد ان کے الفاظ میں اسٹرانگ لیڈر ) نہیں ۔ میں نے کہا کہ بنگلہ دیش کو تو شیخ مجیب الرحمن کمی شکل میں ایک طاقت ور قائد حاصل تھا۔ پھر اس طاقت ور قائد نے اپنے ملک کو کیا دیا۔ انھوں نے کہا کہ ہاں ، وہ طاقت ور قائد تھے مگر انھوں نے ملک کو برباد کیا۔ میں نے کہا کہ اس سے معلوم ہوا کہ قومی تعمیر کے لیے صرف " طاقت ور قائد " کافی نہیں ۔ پھر میں نے کہا کہ آج اصل کی قائد قومی کی نہیں ، اصل کمی قائدِ حکیم کی ہے ۔ آج ہر مسلم ملک میں ایسے افراد موجود ہیں جن کے پاس طاقت ہے ، جن کے پاس وسائل ہیں۔ مگر وہ چیز ان کے پاس نہیں جس کو دانش کہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں دانش کی کمی نے مسلم ملکوں کو برباد کیا ہے نہ کہ طاقت کی کمی نے ۔ ایک بار کھانے کے وقت میری میز کے قریب چند باریش بزرگ بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کی اردو زبان اور موضوع گفتگو سے معلوم ہوا کہ وہ پاکستان سے آئے ہیں اور " دیو بندی مکتب فکر " سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک بزرگ نے پرجوش طور پر کہا کہ " ہندوستان میں صرف ۱۰ دن کے اندر پچپن ہزار علماء شہید کر دیے گئے " میں نے پوچھا کہ حضرت ، اسلام میں شہادت برائے شہادت ہے کہ شہادت کا کوئی مقصد ہے۔ انھوں نے کہا کہ شہادت کا مقصد بالکل واضح ہے۔ میں نے کہا کہ وہ کیا ہے ۔ انھوں نے کہا : اعلاء کلمۃ اللہ ۔ میں نے کہا کہ دورِ اول میں ۵۵ سو سے بھی کم آدمیوں نے شہادت پائی اور اللہ کا کلمہ بلند ہو گیا۔ موجودہ زمانہ میں ۵۵ ہزار بزرگ شہید ہو گئے اور اب تک اللہ کا کلمہ بلند نہ ہو سکا۔ اس پر وہ بگڑ گئے ۔ میں نے آگے کلام کو جاری رکھنا مناسب نہ سمجھا اور وہاں سے اٹھ گیا ۔
پاکستان کی پوری آبادی ساڑھے نو کروڑ ہے ۔ ان میں مہاجرین کی تعداد تقریباً ڈیڑھ کروڑ ہے ۔ غیر مسلم ایک کروڑ اور کچھ لاکھ ہیں ۔ کراچی شہر کی آبادی ۷ لاکھ ہے ۔ اس میں مہاجرین کی تعداد تقریباً ۴۰ لاکھ ہے ۔
ایک صاحب رواندا (وسط افریقہ) سے آئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ رواندا میں مسلمان