اَلْوَاحِدُ إِذَا لَمْ يَعْمَلْ يُحْتَقَرْ
الرسالہ، مئی ۱۹۸۷، صفحہ ۳۸
پوری فضا مذکورہ پاکستانی کے خلاف ہو گئی۔ نہ صرف یہ کہ میرے خلاف تجویز ختم ہوگئی بلکہ مذکورہ پاکستانی ممبر کو کمیٹی سے علیحدہ کر دیا گیا۔
یہی حکمت مسائل کو حل کرنے کا واحد یقینی طریقہ ہے۔ مسئلہ خواہ مسلمان اور مسلمان کے درمیان ہو یا مسلمان اور غیر مسلمان کے درمیان، وہ حکمت ہی کے ذریعہ حل ہو سکتا ہے۔ غیر حکیمانہ طریقہ صرف مسئلہ کی شدت کو بڑھاتا ہے، وہ کسی بھی درجہ میں اس کو کم نہیں کرتا۔ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ زندگی کے اس راز کو لوگ صرف اپنے ذاتی معاملہ میں یا رکھتے ہیں، وہ قومی معاملہ میں ہمیشہ اس کو بھول جاتے ہیں ۔
جنوبی افریقہ کے ایک ڈاکٹر سے ملاقات ہوئی ۔ وہ جنوبی افریقہ کے شہری ہیں ۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ کے بارہ میں اکثر ظلم و فساد کی خبریں دوسرے ملکوں کے اخباروں میں چھپتی رہتی ہیں۔ ان کو ہمارے وہ رشتہ دار پڑھتے ہیں جو یورپ اور امریکہ وغیرہ میں ہیں۔ وہ ہم کو لکھتے ہیں کہ جنوبی افریقہ کے حالات اتنے خراب ہیں، وہاں جان و مال محفوظ نہیں، پھر آپ وہاں کیوں پڑے ہوئے ہیں ۔ آپ جنوبی افریقہ کو چھوڑ کر ہمارے یہاں آجائیے ۔ ہم ان کو جواب دیتے ہیں کہ جو کچھ اخباروں میں چھپتا ہے وہ اخباروں کی اپنی ایجاد ہے، ورنہ جنوبی افریقہ کے حالات ایسے نہیں ۔ معمولی کھٹ پٹ ضرور ہوتی ہے تو معمولی کھٹ پٹ کہاں نہیں ۔ انھوں نے کہا کہ ظلم کے واقعات زیادہ تر ان لوگوں کے ساتھ ہوتے ہیں جو حکمرانوں کے خلاف متشددانہ تحریک چلاتے ہیں، عام باشندوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔
میں نے کہا کہ ٹھیک یہی ہندوستان کا معاملہ بھی ہے۔ ہندوستان بہت بڑا ملک ہے۔ اس کی آبادی بہت زیادہ ہے۔ کہیں کوئی جھڑپ یا کھٹ پٹ ہو گئی تو باہر کے اخبار میں چھپتا ہے کہ ہندوستان میں فساد" ۔ حالاں کہ جو واقعہ ہوتا ہے وہ بھی ہندوستان کی لاکھوں بستیوں میں سے ایک بستی میں اور اکثر بستی کے ایک محلہ میں ہوتا ہے ۔ اور اخبار والے اس کا عنوان بنا دیتے ہیں "ہندوستان میں فساد" اس کی وجہ سے لوگ غیر ضروری طور پر تشویش میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔ واقعات کے مطالعہ کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ایک واقعہ کو اسی نوعیت کے دوسرے واقعات سے ملا کر دیکھا جائے ۔ جو لوگ ہندوستان میں مسلمانوں پر غیر مسلموں کے مظالم کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں