اَلْوَاحِدُ إِذَا لَمْ يَعْمَلْ يُحْتَقَرْ
الرسالہ، مئی ۱۹۸۷، صفحہ ۳۹
انھیں مسلم ملکوں میں مسلمانوں کے مظالم کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔ افریقہ کی کانفرنس میں سوڈان کے ایک اسلام پسند بزرگ نے جعفر نمیری کے مظالم بیان کیے اور اس کے لیے ”شیطان “ کا لفظ استعمال کیا۔ حالانکہ وہاں ظالم اور مظلوم دونوں مسلمان ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دنیا مقابلہ اور مسابقت کی دنیا ہے۔ یہاں ہر ایک دوسرے کو پیچھے دھکیل کر آگے بڑھ جانا چاہتا ہے۔ اس لیے یہاں شکایت اور احتجاج سے کوئی فائدہ نہیں۔ کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ آدمی صورت حال کو سمجھے اور اس کے مطابق اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے ۔
۲۱ ستمبر کی شام کو عربوں کی ایک مجلس کو خطاب کرنے کا موقع ملا۔ یہ تمام کے تمام عرب نوجوان تھے۔ میرے سوا وہاں کوئی ایک بھی اردو جاننے والا نہ تھا، اس لیے پوری تقریر عربی میں ہوئی اور تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہی۔ ان لوگوں نے میری اس عربی تقریر کو دو کیسٹ پر ریکارڈ کیا۔ اس تقریر میں میں نے تفصیل کے ساتھ بتایا کہ ایمان ایک اکتشاف ہے۔ اسی اکتشاف سے وہ چیز ابھرتی ہے جس کو دعوت کہا جاتا ہے۔ عام مسلمانوں کے لیے تقلیدی ایمان بھی کافی ہوسکتا ہے مگر داعی وہی شخص بن سکتا ہے جس کو اکتشاف کے درجہ میں ایمان حاصل ہوا ہو۔
پھر میں نے موجودہ زمانہ کی اسلامی تحریکوں کا ذکر کیا۔ جو اسلامی انقلاب کے نام پر اٹھیں میں نے مثالیں دے کر بتایا کہ یہ تمام تحریکیں ردعمل کی نفسیات کے تحت پیدا ہوئیں ان تحریکوں کے قائدین نے دیکھا کہ غیر مسلم اقوام نے ان سے ان کی عظمت چھین لی ہے ۔ اس احساس نے انھیں بھڑکایا اور وہ ان سے لڑنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ حقیقی داعی وہ ہے جو احساس یا فت پر اٹھے۔ مگر یہ لوگ احساس زیاں پر اٹھے۔ اس دنیا میں ’’زیاں‘‘ کو بھولنا پڑتا ہے، اس کے بعد ہی آدمی کو ’’یافت‘‘ کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔ مگر ہمارے رہنما اس حوصلہ مندی کا ثبوت نہ دے سکے ۔ اس لیے وہ احساس محرومی سے اوپر اٹھنے میں کامیاب بھی نہیں ہوئے ۔
میری تقریر کا آخری خلاصہ یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عظیم انقلاب برپا کیا جس کی کوئی دوسری مثال انسانی تاریخ میں نہیں ۔ جب کہ موجودہ زمانہ کے مسلم مفکرین بے شمار قربانیوں کے باوجود کوئی انقلاب برپا نہ کر سکے۔ اس کا سبب در اصل وہ فرق ہے جو رسول اللہ اور ان مسلم مفکرین کے درمیان پایا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احساس یافت پر کھڑے ہوئے تھے۔ اس کے