اَلْوَاحِدُ إِذَا لَمْ يَعْمَلْ يُحْتَقَرْ
الرسالہ، مئی ۱۹۸۷، صفحہ ۴۰
برعکس موجودہ زمانہ کے مسلم مفکرین احساس محرومی پر کھڑے ہوئے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایمان ایک عظیم دریافت کے ہم معنی تھا۔ وہ ہر چیز سے زیادہ عظیم تھا۔ گویا کہ آپ لوگوں سے کہہ رہے تھے : اے لوگو، میرے پاس ایک بہت بڑی چیز ہے۔ میرے پاس آؤ تاکہ میں تم کو وہ چیز دوں۔ اس کے برعکس موجودہ مسلم مفکرین کا معاملہ یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی بڑی چیز نہیں۔ گویا کہ وہ لوگوں سے کہہ رہے ہیں : اے لوگو، تم نے ہم سے تمام چیزیں چھین لی ہیں۔ تو تم چھینی ہوئی چیزوں کو ہمیں واپس کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت دینے والے کی تھی اور ہمارے رہنماؤں کی حیثیت مانگنے والوں کی۔ اس فرق کے بعد کیسے ممکن تھا کہ ان کے ذریعہ سے وہ چیز ظہور میں آئے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ظہور میں آئی :
ان النبي صلى الله عليه وسلم حقق ثورة عظيمة، لا نظير لها في التاريخ الانساني والمفكرون المسلمون المعاصرون عجزوا عن تحقيق اى ثورة ولو بعد بذل لهم تضحيات عظيمة والسبب يرجع الى فرق جوهري بين عمل النبي صلى الله عليه وسلم وعمل هؤلاء المفكرين - فالنبي قام عمله على احساس الوجدان، وهم قد قام عملهم على احساس الخسارة والفقدان - ان ايمان الرسول صلى الله عليه وسلم كان له كاكتشاف عظيم، يفوق كل شي - فكانه كان في دعوته يقول : ايها الناس، عندی شي عظيـم - تعالوا الى مناعطيكم منه ـ وهؤلاء المفكرون ليس عند هم اى شئ - وكانهم يقولون - ايها الناس، انكم سلبتـم منا كل شئ فنردّ واعلينا الاشياء التي سلبتـموها منا- فالرسول صلى الله عليه وسلم كان ك الواهب او ك الحاطی وهم ك السائلين - فكيف يتأتى لهم ان يحققوا ما حققه الرسول صلى الله عليه وسلم ـ واپسی میں عجیب قصہ پیش آیا۔ کراچی سے ۲۲ ستمبر کی شام کو دہلی کے لیے روانگی ہوئی۔ کراچی سے دہلی کا سفر ڈیڑھ گھنٹے میں طے ہوتا ہے۔ جہاز معمول کے مطابق ۱۰ ہزار میٹر کی بلندی پر اڑ رہا تھا۔ یہاں تک کہ ”کرسی کی پیٹی باندھ لیں“ کی علامت روشن ہوئی۔ بظاہر اس کا مطلب یہ تھا کہ اب دہلی قریب آگیا ہے۔ مگر کچھ دیر کے بعد روشنیاں بجھ گئیں۔ اور جہاز بدستور اُڑتا رہا، یہاں تک کہ پرواز کی حالت میں دو گھنٹے سے زیادہ گزرگئے ۔ ہم اسی تشویش میں مبتلا تھے کہ جہاز کے