اَلْوَاحِدُ إِذَا لَمْ يَعْمَلْ يُحْتَقَرْ
الرسالہ، مئی ۱۹۸۷، صفحہ ۴۱
ذمہ داروں کی طرف سے اعلان ہوا کہ خراب موسم کی وجہ سے ہم دہلی کے ائیر پورٹ پر نہ اتر سکیں گے، اور اب ہم دوبارہ کراچی واپس جا رہے ہیں۔
تقریباً تین گھنٹہ فضا میں رہنے کے بعد جہاز دوبارہ کراچی کے ایر پورٹ پر اتر گیا۔ تمام مسافر لاؤنج میں بٹھا دیئے گئے۔ کئی گھنٹے تک انتظار کی غیر یقینی حالت طاری رہی۔ اس کے بعد اعلان ہوا کہ جہاز دوبارہ دہلی کے لیے روانہ ہو رہا ہے چنانچہ تمام مسافر دوبارہ جہاز پر سوار ہوئے۔ مقررہ وقت کے مطابق ہم ۵ بجے شام کو دہلی پہنچ جاتے۔ مگر اس افتاد کی وجہ سے ہم رات کو ۱۲ بجے دہلی پہنچے۔ جن ہوائی ’’حادثات‘‘ کا ذکر اس سے پہلے اخباروں میں پڑھا تھا وہ اس سفر میں کم از کم جزئی طور پر میرے ساتھ بھی پیش آ گیا۔
۲۳ ستمبر کو پی آئی اے کا جہاز جب درمیان سے واپس ہوا تو اس کو دوبارہ کراچی ایر پورٹ پر اترنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ کیوں کہ وہ خود اپنے ملک میں اپنے ایر پورٹ پر اتر رہا تھا۔ مگر اس سے پہلے ۱۴ ستمبر کو جب ہمارے جہاز کا ایک انجن فیل ہو گیا تھا اور پائلٹ مجبور ہو گیا تھا کہ وہ اس کو زمین پر اتارے تو اس نے فضا سے وائرلیس کے ذریعہ قریب کے کئی ہوائی اڈوں سے رابطہ قائم کیا۔ مگر ہر ہوائی اڈہ اس کو اترنے کی اجازت دینے سے انکار کرتا رہا۔
آخر میں اس نے عمان ایر پورٹ سے بات کی۔ اس نے بھی ابتداء انکار کیا۔ تقریباً آدھ گھنٹہ تک پائلٹ اور عمان ایر پورٹ کے ذمہ داروں کے درمیان بات چیت ہوتی رہی۔ پائلٹ نے اصرار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت جہاز پر ۲۰۰ مسافر ہیں۔ آخر میں کیسے ایسا کروں گا کہ ان کو بے یار و مددگار چھوڑ دوں کہ وہ کسی کھنڈ میں جا کر گر جائیں۔ اس گفتگو کے درمیان آدھ گھنٹہ تک جہاز عمان کے چاروں طرف اڑتا رہا۔ آخر کافی کہنے سننے کے بعد عمان ایر پورٹ نے اجازت دی۔ جب ہمارا جہاز ڈگمگاتے ہوئے عمان ایر پورٹ پر اترا تو وہاں مسلح پولیس پورے ایر پورٹ کو اپنے گھیرے میں لیے ہوئے تھی۔
اس غیر معمولی سلوک کی وجہ فضائی متذاتی ہے۔ ایسی صورت حال میں ایر پورٹ والے پہلا شبہ یہ کرتے ہیں کہ فضائی قزاقوں نے جہاز کو اپنے قبضہ میں لے لیا ہے اور اس کو کسی