Al-Risala · May 1987 · page 42

اَلْوَاحِدُ إِذَا لَمْ يَعْمَلْ يُحْتَقَرْ

الرسالہ، مئی ۱۹۸۷، صفحہ ۴۲

غیر متعلق ائیرپورٹ پر اترنے کے لیے مجبور کر رہے ہیں۔ جب فضائی قذا فون کو ایسا کرنا ہوتا ہے تو وہ جہاز کے پائلٹ کو ہدایت کر دیتے ہیں کہ تم ہمارا نام ہر گز نہ لو، بلکہ یہ کہو کہ انجن کی خرابی یا کسی تکنیکل سبب سے ہم جہاز کو اتارنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ائیر پورٹ نے ہمارے پائلٹ کے بیان پر یقین نہیں کیا اور اس کو اترنے کی اجازت دینے میں دیر لگائی۔ یہاں بظاہر مجھ کو ہر طرح کا آرام حاصل تھا ، مادی اعتبار سے کسی چیز کی کمی نہ تھی مگر میری روح ہر وقت تڑپتی رہتی تھی۔ اصل یہ ہے کہ دہلی میں اپنے روز مرہ کے کام کے ساتھ میں اتنا زیادہ وابستہ ہو گیا ہوں کہ اس سے باہر نکلتے ہی میرا سکون بالکل چھن جاتا ہے۔ میرا حال اس مچھلی کا سا ہو جاتا ہے جس کو پانی سے نکال کر خشکی میں ڈال دیا گیا ہو۔ چنانچہ بارہ دن کے اس سفر میں شاید ایک لمحہ بھی ایسا نہ تھا جب کہ میں نے اپنے اندر سکون و اطمینان محسوس کیا ہو۔ اس پوری مدت میں مسلسل میں شدید کرب میں مبتلا رہا۔ یہ کرب صرف اس وقت ختم ہوا جب کہ میں ۲۲ ستمبر ۱۹۸۶ء کو اپنے دہلی کے ماحول میں دوبارہ واپس آگیا۔

حقیقت یہ ہے کہ انسان کے لیے سب سے بڑی چیز نفسیاتی سکون ہے نہ کہ مادی راحت۔ اگر آدمی نفسیاتی بے چینی میں مبتلا ہو تو مادی راحت کے سامان ہوں کے انبار کے درمیان بھی وہ اس طرح تڑپے گا جیسے وہ آگ کے انگاروں کے اوپر ڈال دیا گیا ہے ۔ نفسیاتی بے آرامی ہر مادی آرام کو بے معنی بنا دیتی ہے۔

زیر طبع مطبوعات تذکیر القرآن جلد دوم ( سورہ کهف - سوره ناس) صفحات ۸۰۰ تعبیر کی غلطی صفحات ۳۴۴

‹ Previous page Next page › Contents of May 1987 All issues

Printed page