دین سے دور
الرسالہ، مئی ۱۹۸۷، صفحہ ۴۴
دین سے دور
حدیثوں اور آیتوں سے واضح طور پر ثابت ہے کہ مسلمانوں کے لیے نجات اور کامیابی کا واحد راستہ یہ ہے کہ وہ رسول اور اصحاب رسول کے طریقہ پر چلیں۔ رسول نے اپنے عمل سے جو سنت چھوڑی ہے اور آپ کے اصحاب نے جس طرح اس کو اپنی زندگیوں میں اختیار کیا ہے وہی تمام مسلمانوں کے لیے واحد نمونہ ہے جس کو انہیں اختیار کرناہے۔ اس طریقہ میں خود سے کوئی اضافہ کرنا سراسر بدعت ہے۔ اور بدعت اللہ کے نزدیک جرم ہے ۔
سنت کے طریقہ کو چھوڑنے کی بہت سی صورتیں ہیں۔ ان میں سے ایک صورت یہ ہے کہ سنت کے کچھ جزئی اور بے ضرر پہلوؤں کو لے لیا جائے اور سنت کے زیادہ اہم پہلوؤں کو چھوڑ دیا جائے۔ جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ اس لیے ایسا کرتے ہیں کہ جزئی اور ظاہری پہلوؤں کو اختیار کرنے سے ان کی زندگی پر کوئی زد نہیں پڑتی۔ جب کہ سنت کے اہم پہلو آدمی سے اس کی زندگی میں تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ وہ اس کی زندگی کے اس پورے ڈھانچہ کو بدل دینا چاہتے ہیں جو اس نے اپنی خواہشات اور مفادات کے تحت قائم کر رکھا ہے۔ یہی صورتِ حال بہت بڑے پیمانہ پر یہودیوں میں پیدا ہوگئی تھی ۔ جس کی اصلاح کے لیے حضرت مسیح علیہ السلام ان کی طرف بھیجے گیے۔ حضرت مسیح نے اپنی ایک تقریر (متی ۲۳ : ۲۳ - ۲۸) میں ان کو ان سخت الفاظ میں تنبیہ فرمائی :
"اے ریاکار فقیہو اور فریسیو، تم پر افسوس کہ پودینہ اور سونف اور زیرہ پر تو دہ یکی دیتے ہو۔ پر تم نے شریعت کی زیادہ بھاری باتوں یعنی انصاف اور رحم اور ایمان کو چھوڑ دیا ہے لازم تھا کہ یہ بھی کرتے اور وہ بھی نہ چھوڑتے۔ اے اندھے راہ بتانے والو، جو مچھر کو تو چھانتے ہو اور اونٹ کو نگل جاتے ہو۔ اے ریاکار فقیہو اور فریسیو، تم پر افسوس کہ پیالے اور رکابی کو اوپر سے صاف کرتے ہو مگر وہ اندر لوٹ اور نا پر ہیز گاری سے بھرے ہوئے ہیں۔ تم سفیدی پھیری ہوئی قبروں کی مانند ہو جو اوپر سے تو خوبصورت دکھائی دیتی ہیں مگر اندر مردوں کی ہڈیوں اور ہر ۔ طرح کی نجاست سے بھری ہیں۔ "