East Asia for Japan
الرسالہ، جون ۱۹۸۷، صفحہ ۱۲
ہو جائیں ۔ ہم ہی دوبارہ اگلی صف میں جگہ پاتے ہیں ۔ اس راز کو چودہ سو سال پہلے مسلمانوں نے " صلح حدیبیہ " کی صورت میں دریافت کیا تھا ، موجودہ زمانہ میں جاپانیوں نے اسی کو اپنے حالات کے لحاظ سے اپنی زندگی میں دہرایا ہے ۔
اصل یہ ہے کہ یہ دنیا مقابلہ اور مسابقت کی دنیا ہے ۔ یہاں ہر ایک دوڑ رہا ہے ، یہاں ہر ایک دوسروں سے آگے بڑھ جانا چاہتا ہے ۔ یہی مقابلہ انسانی ترقیوں کا زینہ ہے ۔ تاریخ کی تمام ترقیاں اسی مقابلہ آرائی کے بطن سے ظاہر ہوئی ہیں ۔ امریکہ کی قیادت کی کوشش کے ذریعہ انسان جوہری طاقت تک پہنچا ۔ جاپان کے دوبارہ اٹھنے کی کوشش نے الیکٹرانک دور پیدا کر دیا ، وغیرہ ۔
اس دوڑ یا مقابلہ کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بار بار ایک قوم دوسری قوم سے پچھڑ جاتی ہے ۔ بار بار کوئی آگے بڑھ جاتا ہے اور کوئی پیچھے رہ جاتا ہے ۔ ایسی حالت میں پیچھے رہ جانے والا اگر ۔ شکایت اور احتجاج میں لگ جائے تو وہ صرف اپنا وقت ضائع کرے گا ۔ اس کے لیے واحد راستہ صرف یہ ہے کہ وہ اس حقیقت کا اعتراف کرے کہ دوسرے اس سے آگے بڑھ گئے اور وہ دوسرے سے پیچھے رہ گیا ۔
یہ اعتراف اس کی کوششوں کو صحیح رُخ پر لگا دے گا ۔ وہ اس کو موقع دے گا کہ آگے بڑھنے والے سے بے فائدہ ٹکراؤ کیے بغیر وہ اپنی تعمیر ثانی کا کام شروع کر دے ۔ یہاں تک کہ ایک دن وہ آئے جب کہ وہ اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر لے ۔
اپنے پیچھے ہونے کا احساس آدمی کو دوبارہ آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتا ہے ۔ پیچھے رہ جانے والا شخص اگر اپنے پیچھے ہونے کا اقرار نہ کرے تو وہ ہمیشہ پیچھے ہی پڑا رہے گا ، دوبارہ ۔ آگے بڑھنا اس کے لیے مقدر نہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1987 All issues