Al-Risala · June 1987 · page 13

محرومی پر راضی ہونا

الرسالہ، جون ۱۹۸۷، صفحہ ۱۳

محرومی پر راضی ہونا

نماز مسلمانوں پر اول دن سے فرض تھی۔ مگر پانچ وقت کی قید کے ساتھ نمازِ معراج میں فرض کی گئی۔ ہجرت کے بعد مدینہ میں باقاعدہ طور پر با جماعت نماز کا قیام عمل میں آیا۔ ابتدا میں یہ معمو ل تھا کہ جب نماز کا وقت آتا تو لوگ اپنے آپ مسجد میں آجاتے ۔ مگر جماعت کے باقاعدہ نظام کے لیے ضروری تھا کہ اس کے اعلان کا انتظام کیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارہ میں لوگوں سے مشورہ فرمایا۔ کسی نے کہا کہ ناقوس بجایا جائے، کسی نے کہا کہ اونچی جگہ پر آگ روشن کی جائے۔ اس طرح کے اور بھی بعض مشورے سامنے آئے مگر ان میں سے کسی کو آپ نے قبول نہیں فرمایا۔

اس کے بعد ایک صحابی کو اذان کے کلمات کی بشارت ہوئی ۔ یہ عبد اللہ بن زید بن ثعلبہ بن عبد ربہ تھے۔ انھوں نے خواب میں دیکھا کہ ایک سبز پوش آدمی ہے۔ اس سے وہ اذان کے بارہ میں گفتگو کر رہے ہیں۔ وہ آدمی ان کو بتاتا ہے کہ اس کی بہتر تدبیر یہ ہے کہ تم یہ الفاظ کہو۔ اس کے بعد اس آدمی نے اللہ اکبر سے لا إله إلا الله تک وہ تمام الفاظ بتائے جو اب نماز سے پہلے ہر مسجد سے بہ آواز بلند پکارے جاتے ہیں۔ مذکورہ صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اپنا پورا خواب بیان کیا۔ آپ نے اس کو پسند کیا اور فرمایا کہ بے شک یہ سچا خواب ہے، ہے،(اِنّھا لرؤ یاحَقّ ان شاء الله ، سيرة ابن هشام ، جلد ۲، صفحه (۱۲۹) قدرتی طور پر عبد اللہ بن زید کی خواہش تھی کہ وہی موذن مقرر کیے جائیں۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بجائے حضرت بلال کو موذن مقرر فرمایا اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ وہ تم سے زیادہ بلند آواز ہیں ہیں(فانہ اندی صوتًا منك ) عبد الله بن زید یہ سوچ سکتے تھے کہ مجھے اذان کی بشارت ہوئی ہے، اس لیے میرا حق ہے کہ میں ہی اذان دینے والا بنوں۔ مگر اذان کا مقصد اعلان تھا اس لیے اونچی آواز والے شخص کو مقرر کیا گیا۔ عبداللہ بن زید نے اس محرومی کو قبول کرلیا۔ یہی کامیابی کا راز ہے۔ اس دنیا میں اسی گروہ کے لیے کامیابی کی راہیں کھلتی ہیں جس کے افراد اہل ترکہ مقابلہ میں اپنے حق سے دست بردار ہو جائیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1987 All issues

Printed page