Al-Risala · June 1987 · page 14

محرومی پر راضی ہونا

الرسالہ، جون ۱۹۸۷، صفحہ ۱۴

غلط فہمی

ابو جعفر محمد بن جریر بن یزید الطبری (۹۲۳ - الطبری(۹۲۳-۸۳۹ء)مشہور مشہور عالم ہیں ۔ وہ ایران میں پیدا ہوئے ۔ مختلف ممالک میں تحصیل علم کے بعد بغداد میں مقیم ہو گئے اور یہیں وفات پائی ۔ ان کی کتابوں میں سے دو کتابیں بہت مشہور ہیں ۔ تفسیر میں جامع البیان عن تاویل آی القرآن اور تاریخ میں تاریخ الامم والملوک ۔ دولت سامانیہ کے شہزادہ منصور بن نوح نے ان کی وفات کے چالیس سال بعد ان کی تاریخ کی کتاب کا فارسی ترجمہ ترجمہ(۹۶۳ء) تیار کرایا تھا ۔

ابن جریر طبری مسلمہ طور پر ایک عظیم اسلامی عالم تھے ۔ خطیب بغدادی (م ۴۶۳ ھ) نے لکھا ہے کہ اقوام و ملوک کی تاریخ پر ان کی مشہور کتاب ہے ، اور تفسیر قرآن پر ایک کتاب ہے جس کے مثل کتاب ابھی تک کسی نے نہیں لکھی (وله الكتاب المشهور في تاريخ الامم والملوك وكتاب في التفسير ولم يصنف أحد مثله) مگر ۲۸ شوال ۳۱۰ ھ کو جب ابن جریر طبری کا بغداد میں انتقال ہوا تو حنبلی علماء کی شدید مخالفت کی وجہ سے ان کو مسلمانوں کے عام قبرستان میں جگہ نہیں ملی ۔ انتقال کے اگلے روز وہ اپنے مکان ہی کے ایک حصہ میں دفن کر دیے گئے ۔

امام محمد بن جریر طبری کا یہ انجام کیوں ہوا۔ اس کی وجہ ایک بدگمانی تھی جو بلا تحقیق ان کی طرف منسوب کر دی گئی اور بڑھتے بڑھتے اپنی آخری حد پر پہنچ گئی۔ اصل یہ ہے کہ اسی زمانہ میں ایران میں ایک اور صاحب تھے جن کا نام محمد بن جریر بن رستم ابو جعفر الطبری تھا۔ یہ شیعہ عالم تھے۔ شیعی مسلک کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ وضو میں پاؤں کا دھونا ضروری نہیں ہے۔ صرف مسح بھی کافی ہے ۔ نام کے جزئی اشتراک کی بنا پر کچھ لوگوں نے اس کو ابو جعفر محمد بن جریر بن یزید الطبری کا مسلک سمجھ لیا ، حالانکہ وہ محمد بن جریر بن رستم ابو جعفر الطبری کا مسلک تھا۔ اس غلط فہمی کی بنا پر تشدد علماء (مثلاً ابو بکر محمد بن داؤد ظاہری) نے ان کو رافضی کہنا شروع کر دیا۔ حالاں کہ امام ابن جریر طبری کا رفض اور شیعیت سے کوئی تعلق نہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1987 All issues

Printed page