Al-Risala · June 1987 · page 20

فرقہ واریت کا مسئلہ

الرسالہ، جون ۱۹۸۷، صفحہ ۲۰

یہ ذہن خاندان کے افراد کے اندر برداشت کا مزاج پیدا کرتا ہے۔ اور برداشت تمام اختلافات کا واحد یقینی حل ہے۔ ایک دانش مند باپ جو ایک خاندان کا سربراہ ہو، وہ اپنے گھر والوں کو ہمیشہ یہ سبق دیتا ہے کہ تم لوگ ایک دوسرے کا احترام کرو۔ تم ایک دوسرے کے کام آنے کی کوشش کرو۔ ایک آدمی صرف اپنے حقوق کو یاد نہ رکھے بلکہ وہ اپنے فرائض کو بھی پوری طرح ادا کرنے کی کوشش کرے ۔ خاندان کے کسی فرد سے اگر کوئی غلطی سرزد ہو جائے تو دوسرے لوگ اسے سنبھالیں اور اس سے درگزر کریں۔

یہی خاندانی یک جہتی کاراز ہے اور یہی قومی یک جہتی کاراز بھی۔ تمام فرقہ وارانہ جھگڑے صرف اس لیے پیدا ہوتے ہیں کہ لوگوں نے اپنے خاندان کی سطح پر زندگی کا جوراز سیکھا تھا اس کو انہوں نے فرقہ وارانہ معاملہ میں استعمال نہیں کیا۔

فرقہ وارانہ جھگڑوں کی واحد وجہ یہ ہے کہ لوگ گھر کے معاملات میں جتنے سنجیدہ ہیں، وہ گھر کے باہر کے معاملات میں اتنے سنجیدہ نہیں۔ گھر کے اندر ہر روز ناموافق باتیں پیش آتی ہیں اور ہر آدمی ان کو برداشت کرتا ہے، صرف اس لیے کہ اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کا گھر اجڑ جائے گا۔ مگر اسی قسم کا ایک ناخوش گوار معاملہ گھر کے باہر پیش آجائے تو لوگ فوراً بگڑ کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ فرقہ وارانہ مسائل کا واحد حل یہ ہے کہ لوگوں کے اندر سے اس دو عملی کو ختم کر دیا جائے۔ مجھے یاد ہے کہ میرے بچپن میں ایک صاحب تھے ۔ وہ اپنے رشتہ داروں کو ہمیشہ ایک شعر سنایا کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ بس یہ ایک شعر پکڑ لو اور اس کے بعد تمہارے تمام گھریلو مسائل اپنے آپ ختم ہو جائیں گے۔ وہ شعر یہ تھا :

کبھی بھول کر کسی سے نہ کرو سلوک ایسا کہ جو تم سے کوئی کرتا تمہیں ناگوار ہوتا اس شعر میں ایک حدیث کے مفہوم کو منظوم انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اور بلاشبہ یہ کامیاب اجتماعی زندگی کا سب سے بڑا اصول ہے۔ اگر لوگ اس ایک ہدایت کو پکڑ لیں تو ان کے تمام مسائل حل ہو جائیں ، خواہ وہ گھر کے اندر کے مسائل ہوں یا گھر کے باہر کے مسائل۔ مسٹر الف اور مسٹر ب دونوں ایک محلہ میں رہتے تھے۔ مسٹر الف کے لڑکے نے مسٹر ب کے لڑکے کے ساتھ ایک نازیبا حرکت کی اور اس کو غصہ دلا دیا۔ اس کے جواب میں مسٹر ب کے لڑکے

‹ Previous page Next page › Contents of June 1987 All issues

Printed page