فرقہ واریت کا مسئلہ
الرسالہ، جون ۱۹۸۷، صفحہ ۲۲
غصہ کے ساتھ پوچھا کہ وہ کیا حربہ ہے۔ میں نے کہا کہ تم جتنا زیادہ مجھے گالیاں دو گے میں اتنا ہی زیادہ تم کو دعائیں دوں گا۔ تم جتنا زیادہ مجھ کو دباؤ گے میں اتنا ہی زیادہ جھکتا چلاؤں گا۔ میری یہ بات سن کر اس کا سارا جوش ختم ہو گیا ۔ وہ چپ چاپ واپس چلا گیا اور پھر کبھی میرے خلاف کوئی بات نہیں کی۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس پالیسی کا نتیجہ صرف یہی نہیں ہے کہ میں غیر ضروری نقصانات سے بچ جاتا ہوں۔ اس کا مزید فائدہ یہ ہے کہ میرے اندر بے پناہ جرأت آگئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ دوسروں سے نفرت آدمی کو بزدل بناتی ہے ۔ اور دوسروں سے محبت آدمی کو بہادر بنا دیتی ہے۔ اور بلاشبہ یہ نہایت سچی بات ہے۔
ہندوستان کے حالات میں فرقہ وارانہ مسئلہ کی سب سے بڑی نفسیاتی وجہ شک و شبہ ہے۔ مختلف تاریخی اسباب سے یہاں ایک دوسرے کے خلاف غیر ضروری قسم کے شبہات کی فضا پیدا ہو گئی ہے ۔ ان شبہات کو پھاڑ کر باہر آجائیے اور پھر تمام فرقہ وارانہ مسائل آپ کو فضا میں تحلیل ہوتے ہوئے نظر آئیں گے۔
ایک مرتبہ میں ہوائی جہاز سے یورپ کے ایک مقام کا سفر کر رہا تھا۔ ہوائی اڈہ پر پہنچا تو اس قدر کہر چھایا ہوا تھا کہ سورج دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ اس کہر کی حالت میں ہمارا جہاز اوپر بلند ہوا۔ کچھ دیر تک تو چاروں طرف اندھیرے کی وہی کیفیت رہی جو ہوائی اڈہ پر نظر آ رہی تھی۔ مگر جب جہاز اپنی پوری بلندی پر پہنچ گیا تو میں نے جہاز کی کھڑکی سے دیکھا کہ سورج کی روشنی پورے آب و تاب کے ساتھ چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے۔ ایسا ہی کچھ معاملہ شبہات کا ہے۔ ہم اکثر شبہات کے کہر میں گھر کر سوچتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ شبہات کا دائرہ ایک مصنوعی اور محدود دائرہ ہے۔ اگر ہم تھوڑی سی کوشش کر کے اس دائرہ کے باہر آ جائیں تو ہر طرف ہم کو یقین اور اطمینان کا سورج چمکتا ہوا نظر آنے لگے گا۔
مجھے ایک شہر کا حال معلوم ہے۔ وہاں ہر سال ایک فرقہ کا جلوس نکلتا ہے جو دوسرے فرقہ کی عبادت گاہ سے گزرتا ہے۔ عبادت گاہ کے پاس پہنچ کر جلوس چھ گھنٹہ اور آٹھ گھنٹہ تک رکا رہتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ عبادت گاہ کے لوگ روک ٹوک کرتے اور یہ کہتے کہ جلوس
‹ Previous page Next page › Contents of June 1987 All issues