فرقہ واریت کا مسئلہ
الرسالہ، جون ۱۹۸۷، صفحہ ۲۳
کو دوسرے راستے سے لے جاؤ۔ اس طرح بات بڑھتی اور ضد کی فضا پیدا ہو جاتی، یہاں تک کہ فساد ہو جاتا۔ پچھلے سال عبادت گاہ کے لوگوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ جلوس کے خلاف کوئی روک ٹوک نہ کریں گے۔ چنانچہ جلوس حسب سابق آیا تو وہاں دوسرے فرقہ کا کوئی آدمی اسے روکنے کے لیے موجود نہ تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جلوس صرف آدھ گھنٹہ میں گزر گیا اور کسی قسم کا کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ ضد کے جواب میں ہمیشہ ضد پیدا ہوتی ہے ۔ اگر آپ ضد نہ کریں تو دوسرے کی ضد اپنے آپ ختم ہو جائے گی۔
اسی طرح میں ایک شہر کے بارے میں جانتا ہوں جہاں دو مسجد یں ہیں۔ اور دونوں بہت پہلے سے آثار قدیمہ کے قبضہ میں تھیں۔ ان میں سے ایک مسجد بہت چھوٹی مسجد ہے اور دوسری مسجد اس کے مقابلہ میں دس گنا زیادہ بڑی ہے۔ بڑی مسجد پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا جب کہ چھوٹی مسجد پر ابھی تک جھگڑا چل رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چھوٹی مسجد کو کچھ موقع پرست لیڈروں نے جلسہ جلوس کا مسئلہ بنا دیا۔ اس کے نتیجہ میں وہ دونوں فرقوں کے لیے ساکھ کا مسئلہ بن گیا اور اس کی بازیابی کی راہ میں سیاسی نزاکتیں پیدا ہو گئیں۔
اس کے برعکس بڑی مسجد کا معاملہ لیڈروں تک نہیں پہنچا۔ وہ مقامی طور پر غیر معروف مسلمانوں کے ہاتھ میں رہا جنہوں نے اس کی بازیابی کے لیے انفرادی سطح پر کوششیں کیں۔ یہ کوشش چونکہ غیر سیاسی انداز میں تھی، اس میں انھیں دوسرے فرقہ کا تعاون بھی حاصل ہوا۔ یہاں تک کہ مسجد اور اس سے ملحق وسیع زمین مسلمانوں کے قبضہ میں آگئی۔ میں نے خود جا کر اس مسجد اور اس کے علاقہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ وہاں اب مسجد اور مدرسہ قائم ہے ۔ بجلی اور ٹیلی فون بھی لگ گئے ہیں۔ لوگ سکون کے ساتھ دینی اور تعلیمی کام میں مشغول ہیں ۔
اختلافی معاملہ کو جلسہ جلوس کا مسئلہ بنانا اس کی نزاکت کو بڑھاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر خاموشی کے ساتھ اس کے حل کی تدبیریں کی جائیں تو مسئلہ کے حل کی راہیں نکل آتی ہیں ۔ اسی طرح مجھے ایک قصبہ کے بارے میں معلوم ہے ۔ وہاں مسلمان ایک مسجد اور مدرسہ بنا رہے تھے۔ بنیاد کھودی جانے لگی تو دوسرے فرقہ کے کچھ لوگ آئے اور انھوں نے کہا کہ ہم یہاں سے دیوار نہیں اٹھنے دیں گے۔ آپ دو گز پیچھے لے جا کر اپنی دیوار اٹھائیے ۔ مدرسہ کے ذمہ دار فوراً راضی
‹ Previous page Next page › Contents of June 1987 All issues