Al-Risala · June 1987 · page 33

دورِ اول کی مثال

الرسالہ، جون ۱۹۸۷، صفحہ ۳۳

گئی ہے۔ یہ ایک تاریخی شہادت ہے جو بتاتی ہے کہ آٹھویں صدی عیسوی میں مسلمان صنعتی ترقی کے اس مقام پر تھے کہ انگلستان کے نامور بادشاہ ادفار کس (وفات ۹۷۶ء) کو ضرورت محسوس ہوتی تھی کہ وہ اپنے ملک کا سکہ ڈھالنے کے لیے بغداد سے مسلم ماہرین کو بلائے ۔ اس وقت انگلستان میں جو سکہ ڈھالا گیا وہ مسلم ممالک کے سکہ (دینار) کی نقل تھا۔ حتی کہ مسلم سکوں کی طرح اس پر کلمہ شہادت بھی عربی رسم الخط میں لکھا ہو ا تھا۔ ۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ہزار برس پہلے کے دور میں اسلامی تہذیب ساری دنیا میں کس قدر غالب حیثیت رکھتی تھی ۔

۴۔ واسکوڈی گاما (۱۵۲۴ء۔ ۱۴۶۹ء) ایک پرتگالی ملاح تھا ۔ اس کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اس نے ۱۴۹۸ میں ہندوستان اور یورپ کے درمیان سمندری راستہ دریافت کیا جو کیپ آف گڈ ہوپ ہو کر جاتا تھا۔ مگر یہ عظیم کامیابی اس کو ایک عرب ملاح احمد بن ماجد کے ذریعہ حاصل ہوئی اس کی بابت انسائیکلو پیڈیا برٹائنیکا (۱۹۸۲) سے حسب ذیل الفاظ لکھے ہیں :

Vasco da Gama's Arab pilot, Ahmad ibn Majid (7/862). یعنی واسکوڈی گاما کا عرب جہاز راں احمد بن ماجد ۔ برٹائنیکا کے مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ واسکوڈی گاما جب پرتگال سے چل کر افریقہ پہنچا تو وہاں موز نلیق کے سلطان نے واسکوڈی گاما کو دو مسلم ملاح دیئے ان میں سے ایک اس وقت بھاگ گیا جب اس کو معلوم ہوا کہ یہ پرتگالی عیسٰی مذہب کے ہیں : The Sultan of Mozambique supplied da Gama two (Muslim) pilots. one of whom deserted when he discovered that the Portuguese were Christians (7/861). جس جہازراں نے واسکوڈی گاما کا ساتھ دیا اس کا نام احمد بن ماجد تھا ۔ وہ نہایت ماہر تھا اور سمندری جہاز رانی سے اتنی واقفیت رکھتا تھا کہ اس پر اس نے ایک اہم کتاب لکھی تھی جو مذکورہ سفر کے وقت اس کے ساتھ تھی ۔

پروفیسر فلپ ہٹی نے لکھا ہے کہ بحری جہاز رانی کے موضوع پر ایک خصوصی کتاب احمد بن ماجد کی ہے جس میں بحری جہاز رانی کے نظریاتی اور عملی پہلوؤں کی وضاحت کی گئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ۱۴۹۷ء میں یہی احمد بن ماجد تھا جس نے افریقہ سے ہندوستان تک واسکوڈی گاما کی رہنمائی کی :

‹ Previous page Next page › Contents of June 1987 All issues

Printed page