Al-Risala · June 1987 · page 34

دورِ اول کی مثال

الرسالہ، جون ۱۹۸۷، صفحہ ۳۴

۵۔ پندرھویں صدی عیسوی کے آخر میں جو دریافتیں ہوئیں ان میں سے ایک وہ دریافت ہے جس کو نئی دنیا (امریکہ) کی دریافت کہا جاتا ہے۔ یہ عظیم دریافت عام طور پر کرسٹوفر کولمبس (۱۵۰۶-۱۴۵۱) کے نام کے ساتھ موسوم ہے۔ یہ صحیح ہے کہ اٹلی کا کولمبس ہی وہ شخص ہے جس نے اس مہم کی رہنمائی کی۔ مگر اس کو یہ تصور دینے والے مسلمان تھے کہ وہ اٹلانٹک سمندر میں اپنی کشتی اس امید میں داخل کرے کہ اس ناپیدا کنار سمندر کے دوسری طرف اس کو خشکی ملے گی جہاں وہ اتر سکے۔ پروفیسر ہٹی نے لکھا ہے کہ عربوں نے زمین کے گول ہونے کے قدیم نظریہ کو زندہ رکھا جس کے بغیر نئی دنیا کی دریافت ممکن نہ ہوتی۔ اس نظریہ کا ایک مبلغ ابو عبیدہ مسلم البلنسی تھا جس نے اس موضوع پر ایک کتاب بھی لکھی تھی۔ اس کا زمانہ دسویں صدی عیسوی کا نصف اول ہے۔ زمین کے گول ہونے کا نظریہ عربی سے لاطینی میں ترجمہ ہو کر ۱۴۱۰ء میں یورپ میں شائع ہوا۔ اس کو پڑھ کر کولمبس نے اس نظریہ سے واقفیت حاصل کی۔ اس سے اُس نے سمجھا کہ زمین ایک ناشپاتی کی مانند ہے اور یہ کہ زمین کے مغربی نصف کرہ میں بھی ایسا ہی ابھار موجود ہے جیسا کہ اس کے مشرقی نصف کرہ میں نظر آتا ہے۔ پروفیسر ہٹی کے الفاظ یہ ہیں :

‹ Previous page Next page › Contents of June 1987 All issues

Printed page