ہمیں کیا کرنا ہے
الرسالہ، جون ۱۹۸۷، صفحہ ۳۵
ہمیں کیا کرنا ہے
اب سوال یہ ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے ۔ ماضی میں بلاشبہ مسلمانوں نے بہت بڑی بڑی سائنسی خدمات انجام دی تھیں ۔ مگر موجودہ زمانہ میں مسلمان سائنس اور صنعت کے میدان میں تمام قوموں سے پیچھے ہو گئے ہیں ۔ آج وہ اس حیثیت میں نہیں ہیں کہ خالص سائنسی اور صنعتی اعتبار سے اہل دنیا کے لیے نفع بخش بن سکیں ۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ ابھی تک صنعتی دور (Industrial age) میں بھی داخل نہیں ہوئے ۔ جب کہ بقیہ دنیا، الوین ٹافلر کے الفاظ میں، مافوق صنعتی دور (Super-industrial age) میں داخل ہو گئی ہے ۔
Alvin Toffler, Future Shock, New York, 1971
مگر امت مسلمہ محفوظ آسمانی کتاب کی حامل ہے ۔ اس نسبت سے وہ خود بھی ایک محفوظ امت ہے۔ اس محفوظیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جہاں مواقع بظاہر ختم ہو جائیں وہاں بھی اس کے لیے ایک نیا موقع موجود رہتا ہے۔ خدا نے انسانیت کے لیے عام طور پر اور امت مسلمہ کے لیے خاص طور پر یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ ہر ڈس ایڈوانٹیج کے ساتھ اس کے لیے ایک ایڈوانٹیج ہمیشہ موجود رہے ۔ یہی وہ ابدی حقیقت ہے جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے :
فَإِنَّ مَعَ العُسْرِ يُسْرًا۔ اِنَّ مَعَ پر مشکل کے ساتھ آسانی ہے ۔ بے شک العُسْرِ يُسْرًا (الانشراح) مشکل کے ساتھ آسانی ہے ۔
اللہ تعالیٰ کی یہ سنت موجودہ زمانہ میں پوری طرح ظاہر ہو چکی ہے ۔ سائنس اپنی ترقیوں کی انتہا پر پہنچ کر ایک ایسے سنگین مسئلہ سے دوچار ہے جس کا خود اس کے پاس کوئی حل نہیں ۔ نہ سائنسی طبقہ سے باہر کوئی گروہ ایسا موجود ہے جو اس مسئلے کا حل اسے دے سکے ۔ یہ صرف مسلمان ہیں جو محفوظ آسمانی کتاب کے حامل ہونے کی وجہ سے اس پوزیشن میں ہیں کہ سائنسی طبقہ کو نیز پوری انسانیت کو اس مسئلے کے حل کا تحفہ پیش کر سکیں ۔
اس معاملہ کی نوعیت سمجھنے کے لیے یہاں میں انسائیکلو پیڈیا برٹا نیکا(۱۹۸۴) کا ایک پیرا گراف نقل کروں گا ۔ اس کے تاریخ سائنس (History of Science) کے مقالہ نگار نے اس سلسلہ میں لکھا ہے :
‹ Previous page Next page › Contents of June 1987 All issues