Al-Risala · June 1987 · page 36

Man Does Not Stand Alone

الرسالہ، جون ۱۹۸۷، صفحہ ۳۶

Untill recently, the history of science was a story of success. The triumphs of science represented a cumulative process of increasing knowledge and a sequence of victories over ignorance and super- stition; and from science flowed a stream of inventions for the improvement of human life. The recent realization of deep moral problems within science, of external forces and constraints on its development, and of dangers in uncontrolled technological change has challenged historians to a critical reassessment of this earlier simple faith (16/366). ابھی حالی تک سائنس کی تاریخ کامیابیوں کی کہانی تھی۔ سائنس کی فتوحات میں یہ شمار ہوتا تھا کہ اس نے انسانی معلومات میں اضافہ کیا ہے اور جہالت اور تو ہم پرستی پر فتح حاصل کی ہے۔ سائنس سے ایجادات کا ایک سیلاب نکلا ہے جس نے انسانی زندگی کو بہتر بنایا ہے۔ مگر حال میں یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ سائنس گہرے اخلاقی سوالات سے دو چار ہے۔ بے قید ٹیکنالوجی کے خطرات کی وجہ سے اس کی ترقی پر روک لگانے کی باتیں کی جارہی ہیں۔ یہ صورتِ حال مو رخین کو چیلنج کر رہی ہے کہ وہ ان خیالات کا دوبارہ تنقیدی جائزہ لیں جو ابتداء میں سادہ طور پر تسلیم کر لیے گیے تھے۔

جدید دنیا کا یہی وہ خلا ہے جہاں مسلمان اپنے نفع بخش ہونے کا ثبوت دے سکتے ہیں ، اور اس طرح دوبارہ اپنے لیے سرفرازی کا وہ مقام حاصل کر سکتے ہیں جو انھوں نے دنیا میں کھو دیا ہے۔ سائنس کی ابتدائی فتوحات نے بہت سے لوگوں کو اتنا زیادہ متاثر کیا کہ انھوں نے سمجھ لیا کہ اب ہمیں سائنس کے سوا کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔ سائنس ہماری تمام ضرورتوں کے لیے کافی ہے۔ اس سلسلہ میں بے شمار کتا بیں لکھی گئیں ۔ جولین ہکسلے (۱۹۷۵-۱۸۸۷) نے اس نقطہ نظر کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک کتاب شائع کی تھی جس کا نام تھا ۔ انسان تنہا کھڑا ہو تا ہے : Man Stands Alone اس کے جواب میں کریں مارلین (۱۹۲۶-۱۸۸۳) نے ایک کتاب شائع کی جس کا نام با معنی طور پر یہ تھا ۔ انسان تنہا کھڑا نہیں ہو سکتا :

Man Does Not Stand Alone

بیسویں صدی کے نصف اول تک انسان کا یہ دعویٰ تھا کہ اس کی سائنس اس کے لیے کافی رسالہ جون ۱۹۷۰ء

‹ Previous page Next page › Contents of June 1987 All issues

Printed page