سیاسی خواب
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۷، صفحہ ۸
سیاسی خواب
پنڈت جواہر لال نہرو کی مشہور کتاب ہے جس کا نام ہے ہندوستان کی دریافت (The Discovery of India) یہ کتاب انھوں نے ۱۹۴۴ میں قلعہ احمد نگر کی اسیری کے زمانہ میں لکھی تھی ۔ کتاب کو اشاعت کے لیے دیتے ہوئے اس کی آخری سطریں انھوں نے ۲۹ دسمبر ۱۹۴۵ کو الہ آباد میں لکھی تھیں جو کتاب کے خاتمہ پر شامل ہیں۔ اس تحریر کا آخری پیرا گراف یہ تھا : We are on the eve of general elections in India and these elections absorb attention. But the elections will be over soon — and then? The coming year is likely to be one of storm and trouble, of conflict and turmoil. There is going to be no peace in India or elsewhere except on the basis of freedom (p. 568). ہم ہندوستان کے عام انتخابات کے عین قریب ہیں ۔ اس الیکشن نے تو جہات کو اپنی طرف کھینچ لیا ہے ۔ مگر الیکشن جلد ہی ختم ہو جائیں گے ۔ پھر اس کے بعد ۔ آنے والا سال کش مکش اور اضطراب کے طوفانوں کا سال ہوگا ۔ ہندوستان یا دوسرے مقامات پر امن صرف آزادی ہی کی بنیاد پر آ سکتا ہے ۔
ان سطروں کو لکھنے کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد ہندوستان نے آزادی حاصل کر لی ۔ اور خود نہرو کو اپنی آخر عمر تک بلا شرکت ملک پر حکومت کرنے کا موقع ملا ۔ ان کے بعد بھی ان کے قریب ترین تربیت یافتہ افراد ملک کے اقتدار پر قابض رہے ۔ مگر وہ چیز جس کو امن کہا جاتا ہے وہ آج اس سے بھی زیادہ دور ہے جتنا وہ دسمبر ۱۹۴۵ میں نظر آتا تھا ۔ ہندوستان کو آزادی مل گئی ۔ مگر اس کو امن حاصل نہ ہو سکا ۔
پر جوش لیڈر اکثر سیاسی تبدیلی کو حالات کی تبدیلی کے ہم معنی سمجھ لیتے ہیں ۔ حالانکہ سیاسی تبدیلی صرف حکومتی افراد کی تبدیلی ہے ، اس کا حقیقی حالات کی تبدیلی سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ۔ سیاسی انقلاب صرف اس وقت مفید ہوتا ہے جب کہ اس سے پہلے اخلاقی انقلاب لایا جا چکا ہو۔ افراد کے اندر اخلاقی انقلاب لائے بغیر سیاسی انقلاب کے کوئی معنی نہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1987 All issues