Al-Risala · July 1987 · page 9

عظمتِ انسانی

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۷، صفحہ ۹

عظمتِ انسانی

اسلام کی تاریخ ، ایک اعتبار سے ، انسانی عظمت کی تاریخ ہے۔ اسلام نے ان اوصاف کی اعلیٰ ترین مثالیں قائم کی ہیں جن کو انسانی اوصاف کہا جاتا ہے۔ یہاں ہم اس بات کی وضاحت کے لیے چند مثالیں نقل کریں گے۔

اعتماد وتوکل

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں پیدا ہوئے ۔ آپ نے اپنی ابتدائی تبلیغ کے تقریباً بارہ سال اسی شہر میں گزارے ۔ اس زمانہ میں مکہ پر مشرکوں کا غلبہ تھا۔ انھوں نے آپ کو سخت تکلیفیں پہنچائیں ۔ یہاں تک کہ آپ کو مار ڈالنے کے درپے ہو گئے۔ جب یہ نوبت آگئی تو آپ مکہ چھوڑ کر مدینہ چلے گیے۔ اس وقت حالات اتنے سخت تھے کہ مکہ سے نکل کر سیدھے مدینہ جانا خطرے سے خالی نہ تھا۔ اس لیے آپ جب مکہ چھوڑ کر نکلے تو ابتداءً تین دن تک غارِ ثور میں مقیم رہے جو ایک دشوار گزار پہاڑ کے اوپر ایک تنگ مقام پر واقع تھا۔ تاہم آپ کے دشمن آپ کو تلاش کرتے ہوئے وہاں بھی پہنچ گئے۔ آپ اپنے رفیق حضرت ابو بکر صدیق کے ساتھ غار میں تھے اور آپ کے دشمن تلواریں لیے ہوئے غار سے اتنے قریب کھڑے ہوئے تھے کہ آپ ان کے قدموں کو دیکھ سکتے تھے۔ تمام ظاہری قرائن کے مطابق ہلاکت آپ کے بالکل قریب پہنچ چکی تھی۔ حضرت ابو بکر صدیق کو یہ صورت حال دیکھ کر سخت تشویش ہوئی ۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ وہ تو یہاں بھی آگئے۔ آپ نے نہایت سکون کے ساتھ جواب دیا: یا ابا بکر ماظنک باثنين ثالثهما ( اے ابوبکر تمہارا ان دو کے بارے میں کیا گمان ہے جن کا تیسرا اللہ ہو )

یہ فقرہ بلا شبہ توکل و اعتماد کا انتہائی کامل نمونہ ہے۔ اس واقعہ میں انسان توکل کے اس آخری مقام پر نظر آتا ہے جس کے آگے اس اعلیٰ انسانی صفت کا کوئی درجہ نہیں ۔

معبود کی یکتائی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ۶۳ سال کی عمر میں مدینہ میں ہوئی۔ اس وقت لوگوں کے اوپر عجیب دیوانگی کی کیفیت طاری ہو گئی ۔ بہت سے لوگوں کو یہ یقین ہی نہ آتا تھا کہ آپ کا انتقال ہو سکتا

‹ Previous page Next page › Contents of July 1987 All issues

Printed page