Al-Risala · July 1987 · page 24

دورِ جدید کی تحریکیں

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۷، صفحہ ۲۴

میں یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ ایک شخص ایک مغربی خاتون کے گھر پر اس سے ملنے کے لیے گیا۔ اس نے گھنٹی بجائی ، اس وقت مغربی خاتون غسل خانہ میں نہارہی تھی۔ وہ گھنٹی کی آواز سن کر بالکل ننگی باہر نکل آئی۔ اس قسم کا واقعہ کوئی استثنائی واقعہ ہوسکتا ہے مگر یہی مغربی سوسائٹی کی عام حالت نہیں۔ ان مصنفین کا حال یہ ہے کہ وہ مغربی سوسائٹی کا کوئی بُرا واقعہ لیں گے اور اس کو مغربی سوسائٹی کی عام حالت بتائیں گے۔ دوسری طرف یہی لوگ اسلام کے بارہ میں یہ کرتے ہیں کہ وہ اس کا ایک نہایت اچھا واقعہ منتخب کرتے ہیں اور اس کو اسلامی سوسائٹی کی عام حالت بتاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کا تقابل علمی اعتبار سے صحیح نہیں ۔ اسی طرح ان کتابوں میں ایک عام کمی یہ پائی جاتی ہے کہ اس میں آئیڈیل کا تقابل پریکٹس سے کیا جاتا ہے۔ مثلاً اسلام کے تصور مساوات کو بتانے کے لیے وہ خطبہ حجۃ الوداع کے الفاظ نقل کریں گے اور مغرب کے تصور مساوات کو بتانے کے لیے ساؤتھ افریقہ کی مثال دیں گے۔ حالاں کہ یہ تقابل سراسر غلط ہے۔ ان کو چاہیے کہ آئیڈیل کا تقابل آئیڈیل سے اور پریکٹس کا تقابل پریکٹس سے کریں۔ مثلاً پیغمبر کے حجۃ الوداع کی تقریر کا تقابل انھیں اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے چارٹر سے کرنا چاہیے نہ کہ ساؤتھ افریقہ کی عملی صورت حال سے۔ وغیرہ و غیرہ ۔

مسٹر اسٹیو اسکلر کی مذکورہ نشاندہی بالکل درست ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جدید قومیں ہمارے مسلم رہنماؤں کے لیے نفرت اور حقارت کا موضوع بن گئیں ۔ یہ ذہن اتنا عام ہوا کہ مسلمانوں کی غیر سیاسی شخصیتیں بھی اس نفسیات سے محفوظ نہیں رہیں۔ اس کی ایک عبرت ناک مثال وہ ہے جس کو مولانا سعید احمد اکبر آبادی (۱۹۸۵ - ۱۹۰۸) نے نقل کیا ہے۔ مولانا ابو البرکات عبد الرؤف دانا پوری نے سیرت نبوی پر اپنی کتاب " اصح السیر " کے مقدمہ میں لکھا ہے کہ چوں کہ طبقات ابن سعد کو ایک عیسائی نے ایڈٹ کیا اور چھاپا ہے اور اس نے ضرور کتاب کے اصل مخطوطہ میں ردو بدل کیا ہوگا۔ اس لیے میرے نزدیک وہ معتبر اور قابلِ استناد نہیں ہے۔ اصح السیر میں یہ بات پڑھ کر مولانا سعید احمد اکبر آبادی نے مولانا حبیب الرحمن الاعظمی کی طرف رجوع کیا جن کی نظر مخطوطات پر بڑی وسیع اور عمیق ہے۔ مولانا اعظمی نے جواب

‹ Previous page Next page › Contents of July 1987 All issues

Printed page