خلاصه
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۷، صفحہ ۲۵
میں تحریر فرمایا کہ طبقات ابن سعد کا ایڈیشن جس مخطوطہ پر مبنی ہے، اس کو میں نے دیکھا اور مطبوعہ ایڈیشن اور مخطوطہ دونوں کا حرفاً حرفاً مقابلہ کیا ہے اور کہیں ایک حرف کا فرق بھی نہیں پایا ہے (ماہنامہ برہان، دہلی جون ۱۹۸۲)
اس نفسیات کی بنا پر مسلمانوں کے لیے یہ ممکن نہ ہو سکا کہ وہ جدید اسلوب یا جدید معیار ادب کو سمجھیں جن کو پیدا کرنے والی خود یہی قومیں تھیں۔ جدید قوموں سے نفرت مسلمانوں کے لیے اس میں مانع ہو گئی کہ وہ جدید اسلوب کو سمجھیں اور اس میں مہارت پیدا کر کے لسان قوم میں اسلامی لٹریچر فراہم کریں۔
خلاصه
اوپر جو باتیں عرض کی گئیں، ان کا خلاصہ یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں سب سے بڑا کام یہ ہے کہ مسلمانوں اور دوسری قوموں کے درمیان حریف اور رقیب کا رشتہ ختم کیا جائے اور ان کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ قائم کیا جائے۔ جس دن ایسا ہو گا کہ مسلمان اپنے آپ کو داعی اور دوسری قوموں کو مدعو سمجھنے لگیں، اسی دن مسلمانوں کے اندر وہ تمام اعلیٰ صفات پیدا ہو نا شروع ہو جائیں گی جو موجودہ زمانہ میں اسلام کے احیاء کی جد وجہد کرنے کے لیے ضروری ہیں۔
اس سلسلہ میں یہ بھی جان لینا چاہیے کہ داعی اور مدعو کا رشتہ پر جوش تقریری الفاظ بول دینے کا نام نہیں ہے۔ یہ موجودہ دنیا میں سب سے بڑی قربانی ہے۔ اس کے لیے ہمیں دوسری قوموں سے اپنی تمام شکایتوں کو یک طرفہ طور پر ختم کر دینا ہوگا۔ اس کے لیے ضروری ہو گا کہ دوسری قوموں سے محبت کی جائے خواہ وہ ہماری دشمن بنی ہوئی ہوں۔ دوسری قوموں کے لیے نیک دعائیں کی جائیں، خواہ وہ ہمارے خلاف سازش کر رہی ہوں۔ دوسری قوموں کو خیر خواہی کا موضوع بنایا جائے خواہ ہمارے نزدیک وہ ہماری بد خواہی میں مشغول ہوں ۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے تمام مسائل کا حل یہ ہے کہ وہ حق کے داعی بنیں اور حق کے داعی صرف وہ لوگ بنتے ہیں جو اپنے مدعو کو اپنے لیے محبت اور خیر خواہ ہی کا موضوع بنا چکے ہوں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1987 All issues