خلاصه
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۷، صفحہ ۲۶
ایک سفر
۲۳ فروری سے ۲ مارچ ، ۱۹۸۰ تک میں ایک سفر میں تھا۔ دہلی سے الہ آباد ، الہ آباد سے بمبئی ، بمبئی سے اعظم گڑھ ۔ اعظم گڑھ سے الہ آباد ہوتے ہوئے واپس دہلی ۔ یہ سفر اپنی نوعیت کے اعتبار سے ان تمام سفروں سے مختلف تھا جن کی رودادیں اب تک الرسالہ کے صفحات میں آتی رہی ہیں۔ یہ ایک ایسا سفر تھا جو غالباً میں نے اپنی باشعور زندگی میں پہلی بار کیا ہے ۔ یعنی شادی اور بارات کا سفر۔ اس شادی کی بارات ۲۴ فروری کی شام کو بذریعہ ہوائی جہاز بمبئی گئی اور ۲۶ فروری کی شام کو دوبارہ بذریعہ ہوائی جہاز بمبئی سے واپس آئی ۔
میرے ایک بے حد قریبی عزیز ہیں جو ہمارے خاندانی بزرگ کی حیثیت رکھتے ہیں اور جن کے حکم کو میں ٹال نہیں سکتا۔ ان کے آخری صاحبزادے کا نکاح تھا۔ ان کا حکم ہوا کہ میں لازمی طور پر اس تقریب کے لیے سفر کروں اور اس میں شروع سے آخر تک شریک رہوں ۔ بچپن کی زندگی کے بعد میں اپنی ساری عمر میں شادی کی تقریبات سے دور رہا ہوں ۔ مگر مذکورہ عزیز کا حکم ٹالنا میرے لیے ممکن نہ تھا ، اس لیے ” بارات “ کے ساتھ شریک سفر ہوگیا۔
اس سفر کا آغاز ۲۳ فروری ، ۱۹۸۰ کی شام کو ہوا جب کہ میں ٹرین کے ذریعہ دہلی سے الہ آباد کے لیے روانہ ہوا۔ ٹرین کیا ہے ۔ ٹرین ایک قسم کا دوڑتا ہوا گھر ہے ۔ ایک ہزار سال پہلے اگر کوئی شخص کہتا کہ میں نے دوڑتا ہوا گھر دیکھا ہے تو سننے والے سمجھتے کہ شاید یہ جادو کے دیس کی باتیں ہیں ۔ مگر آج ایسے گھر بطور واقعہ وجود میں آچکے ہیں ۔ ٹرین کے اندر وہ تمام ضروری سامان ہوتا ہے ۔ جو ایک گھر کے اندر ہوتا ہے ۔ آپ صرف یہ کرتے ہیں کہ ایک گھر سے نکل کر دوسرے گھر میں داخل ہوجاتے ہیں ۔ وہ تیز رفتاری کے ساتھ روانہ ہوتا ہے اور دوڑتا ہوا آپ کو آپ کی منزل پر پہنچا دیتا ہے ۔ کیسی عجیب ہے خدا کی وہ نعمت جس کو جدید سواری کہا جاتا ہے ۔
دہلی سے الہ آباد کا سفر پریاگ راج اکسپریس سے ہوا۔ رات کو دس بجے ہم گاڑی میں داخل ہوکر سوگئے ۔ صبح اٹھے تو گاڑی الہ آباد پہنچ رہی تھی ۔ یہ انسان کے اوپر اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان ہے کہ اس نے سفر کو اس کے لیے اتنا آسان بنا دیا۔ ایک وقت تھا کہ آدمی اپنے پاؤں سے جتنا چلتا تھا اتنا
‹ Previous page Next page › Contents of July 1987 All issues