Al-Risala · July 1987 · page 27

خلاصه

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۷، صفحہ ۲۷

ہی اس کا سفر طے ہوتا تھا۔ اس کے بعد جانوروں کے ذریعہ سواری کا زمانہ آیا۔ اب آدمی دن کو سفر کرتا اور رات کو پڑاؤ ڈالتا۔ موجودہ زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایسی سواریاں دیدی ہیں کہ رات اور دن کے فرق کے بغیر وہ مسلسل اپنا سفر طے کر سکتا ہے۔ تاہم حقیقی مسافر وہ ہے جس کے لیے اس کا مادی سفر معرفت کا سفر بن جائے ۔

موجودہ زمانہ پچھلے تمام زمانوں سے زیادہ خدائی نعمتوں کے ظہور کا زمانہ ہے۔ اس اعتبار سے آج کے انسان کو سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہیے تھا۔ مگر آج کا زمانہ شاید تاریخ کا وہ زمانہ ہے جب کہ سب سے کم ایسے انسان ہیں جو واقعی معنوں میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوں۔ موجودہ زمانہ میں جو انسانی بگاڑ ہے اس کی سب سے بڑی وجہ یقینی طور پر یہی ہے۔ شکر آدمی کے اندر تواضع پیدا کرتا ہے اور اگر آدمی کے اندر سے شکر کا جذبہ نکل جائے تو اس کے بعد جو چیز بچتی ہے وہ سرکشی ہے اور سرکشی بلاشبہ تمام برائیوں میں سب سے بڑی برائی ہے۔ الٰہ آباد کے لیے میرا پہلا سفر غالباً ۱۹۵۰ء میں ہوا تھا۔ اس سفر کا مقصد ایک پمفلٹ (اطاعت خدا کی یا انسان کی چھپوانا تھا۔ یہ پمفلٹ ونڈ ائک طریقہ پر اسرار کریمی پریس سے چھپوایا گیا تھا۔ یہاں کی ملاقاتوں میں سے ایک ملاقات وہ تھی جو جناب انوار علی خاں سوز ایم اے سے ہوئی۔ وہ اس وقت جماعت اسلامی کے اخبار الانصاف کے ایڈیٹر تھے جو بعد کو ”دعوت“ کے نام سے دہلی سے نکلنا شروع ہوا۔ جناب انوار علی خاں سوز ہائی اسکول پاس کر کے انٹر کالج میں تعلیم حاصل کر رہے تھے کہ جماعت اسلامی کے انقلابی فکر سے متاثر ہو گئے ۔ اس فکر کے مطابق انسان کی حاکمیت پر مبنی ہر نظام طاغوتی نظام ہے اور اس سے علمدگی اتنی ہی ضروری ہے جتنی کفر و شرک سے علمدگی۔ تعلیمی اداروں جیسے بظاہر معصوم ادارے بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ۔ چنانچہ بہت سے دوسرے نوجوانوں کی طرح انوار علی خاں سوز صاحب نے بھی تعلیم چھوڑ دی اور اخبار الانصاف میں کام کرنے لگے ۔ جہاں تک یاد ہے ایک چھوٹے سے کمرے کے اندر، کاغذات کے ڈھیر کے درمیان وہ اکیلے کام کیا کرتے تھے ۔ اس ناقابل عمل نظریہ کے خالق مولا نا سید ابوالاعلیٰ مودودی تھے۔ پاکستان منتقل ہونے کے بعد سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اپنا مسئلہ تو اس طرح حل کیا کہ ۱۹۴۹ء میں جب پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے قرارداد مقاصد منظور کی تو انھوں نے اعلان کر دیا کہ پاکستان کی ریاست نے کلمہ پڑھ لیا

‹ Previous page Next page › Contents of July 1987 All issues

Printed page