خلاصه
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۷، صفحہ ۲۸
ہے ۔ اس لیے اب یہاں کے نظام میں شرکت افراد جماعت کے لیے جائز ہو گئی ہے ۔ ہندوستان کی جماعت اسلامی کے افراد بدستور مشکل میں پھنسے ہوئے تھے ۔ آخر کار انھوں نے عملی ضرورت کی منطق کے تحت اس مشکل کا حل تلاش کر لیا ۔ وہ عقیدہ جس چیز کو ناجائز سمجھ رہے تھے ، اس کو انھوں نے حالات کے دباؤ کے تحت بلا اعلان اپنے لیے جائز کر لیا ۔ انھوں نے دوبارہ ان اداروں میں جانا شروع کر دیا جن کو انھوں نے طاغوتی ادارہ قرار دے کر چھوڑ دیا تھا ۔ جناب انوار علی خاں سوز بھی انھیں نوجوانوں میں سے ایک تھے ۔ چنانچہ بعد کو الانصاف سے الگ ہوکر انھوں نے بی اے کیا۔ اور پھر انگلش لٹریچر سے ایم اے کیا۔ اب وہ جامعہ ملیہ (دہلی) میں انگلش لٹریچر کے استاد کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں ۔
الہ آباد کے لیے میرا دوسرا سفر ۱۹۶۰ میں ہوا۔ ۲۲ مئی ۱۹۶۰ کو الہ آباد میں آریہ سماج کی طرف سے ایک سرو دھرم سمیلن (کل مذاہب کانفرنس) ہوئی ۔ اس موقع پر مجھے ایک مقالہ پیش کرنے کی دعوت دی گئی ۔ اس پروگرام کے تحت الہ آباد کا سفر ہوا۔ میرا مقالہ پیشگی طور پر چھپوا لیا گیا تھا جو وہاں عمومی طور پر تقسیم ہوا۔ یہ مقالہ ” منزل کی طرف “ کے نام سے اسلام اور عصر حاضر نامی کتاب میں شامل ہے ۔
اس سفر کی یادوں میں سے ایک یا دیہ ہے کہ میں نے اس سفر میں پہلی بار گنگا اور جمنا کا سنگم دیکھا ۔ ہندو عقیدہ کے مطابق گنگا دنیا کا سب سے زیادہ مقدس دریا ہے ۔ الہ آباد کے پاس گنگا اور جمنا دونوں کا پانی ملتا ہے ۔ یہاں ملاپ کے مقام پر واضح طور پر ایک لکیر سی نظر آتی ہے جو دور تک چلی گئی ہے ۔ یہ منظر گویا قرآن کی اس آیت کا مشاہدہ کراتا ہے : مرج البحرین یلتقیان بینهما برزخ لا یبغیان ۔
الہ آباد کے لیے میرا تیسرا سفر ۱۹۸۱ میں اور چوتھا سفر ۱۹۸۳ میں ہوا۔ ان دونوں سفروں کا مقصد اپنے بھائی اور اپنی والدہ سے ملاقات کرنا تھا۔ الہ آباد کے لیے میرا پانچواں سفر فروری ۱۹۸۷ میں ہوا ۔ اس آخری سفر کی روداد یہاں درج کی جاتی ہے ۔
الہ آباد ہندوستان کا ایک قدیم شہر ہے جو گنگا اور جمنا کے سنگم پر آباد ہے۔ الہ آباد یونیورسٹی ہندوستان کی قدیم یونیورسٹیوں میں سے ہے جو سوسال پہلے ۱۸۸۷ میں قائم ہوئی تھی۔ یہاں ایک
‹ Previous page Next page › Contents of July 1987 All issues