Al-Risala · July 1987 · page 29

خلاصه

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۷، صفحہ ۲۹

پرانا قلعہ ہے جس کو شہنشاہ اکبر نے ۱۵۸۳ء میں بنوایا تھا۔ قدیم زمانہ میں یہاں پریاگ نام سے ایک شہر آباد تھا۔ ۱۵۸۳ء میں مغلوں نے اس کو موجودہ نام کے ساتھ از سر نو آباد کیا۔ ۱۸۰۱ء میں وہ برطانیہ کے قبضہ میں آیا۔

الہ آباد کے لفظ سے سب سے پہلے میں قبل از آزادی کے دور میں اس وقت واقف ہوا جب کہ میں نے ایک آزادی پسند ہندوستانی کا مضمون پڑھا۔ انھوں نے انگریز اور انگریزی تہذیب کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ الہ آبادان کی زبان میں آل بیڈ (Allahabad) بن جاتا ہے اور لالہ ان کے یہاں پاپی (Poppy) کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

"الہ آباد" کے لفظ سے دوسری بار میں ایک شاعر کے شعر کے ذریعہ آشنا ہوا۔ وہ اعظم گڑھ کے رہنے والے تھے ۔ ان کا تخلص نادان تھا۔ ان کے دو اشعار یہ ہیں :

فلک تیرا بگڑ تا کیا اگر ناداں بھی سر تھا مزے کی زندگی کتنی الہ آباد گھر ہوتا ملا میں چیف جسٹس سے ملا سرتیج سپرو سے اگرناداں نہ ہوتا میں تو کل میرا ڈنہ ہوتا یہ دونوں واقعات موجودہ صدی کے ربع ثانی سے متعلق ہیں جس میں میرا بچپن اور نوجوانی کا زمانہ گزرا ہے۔ یہ واقعات علامتی طور پر بتاتے ہیں کہ پچاس سال پہلے کا وہ ماحول کیا تھا جس میں میرے جیسے کروڑوں لوگوں نے اپنی زندگی کے ابتدائی ایام گزارے ہیں۔ یہ ایسا دور تھا جس میں بڑوں کے پاس اپنے چھوٹوں کو دینے کے لیے صرف ایسے الفاظ تھے جن کا کوئی مطلب نہ حال میں ہوتا اور نہ مستقبل میں ۔ چنانچہ جب میں بڑا ہوا تو زندگی کی ہر حقیقت مجھے خود اپنی تلاش سے دریافت کرنی پڑی، کیوں کہ میرا ماحول مجھے زندگی کی حقیقتوں سے آگاہ کرنے میں ناکام ثابت ہوا تھا۔ الہ آباد میں مسٹر نذر حشمت سے ملاقات ہوئی۔ وہ اپنے گھر میں ایک ہرن پالے ہوئے تھے ۔ ۴ سال کی عمر کو پہنچ کر وہ مر گیا۔ انھوں نے بتایا کہ ہرن کی یہ موت قبل از وقت تھی۔ وہ اس کے کھانے پینے کا نہایت اعلیٰ اہتمام کرتے تھے۔ مگر ہرن جب کھلے جنگل میں چوڑی بھرتا ہے تو اس کی عمر بڑھ جاتی ہے ۔ جب کہ قید (Captivity) میں اس کی عمر کم ہو جاتی ہے۔ یہ زندگی کی ایک حقیقت ہے جو ہرن کے لیے بھی اتنی ہی صحیح ہے جتنا کہ انسان کے لیے ۔ اس دنیا میں عمل کا نام زندگی ہے اور بے عملی کا نام موت ۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1987 All issues

Printed page