خلاصه
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۷، صفحہ ۳۰
الٰہ آباد سے بمبئی جانے کے لیے بابت پور (بنارس) کے ہوائی اڈہ سے جہاز پکڑنا تھا۔ الٰہ آباد سے بارات کاروں کے ایک قافلہ کی صورت میں روانہ ہوئی۔ راستہ میں کئی بار ایسا ہوا کہ سامنے کوئی لاری یا ٹرک آگیا۔ ہماری گاڑی نے "پاس" کے لیے بار بار ہارن دیا مگر اس نے پاس نہیں دیا۔ ان سڑکوں پر آج کل یہ عام حالت ہے ۔ ایک صاحب نے بتایا کہ چند سال پہلے یہی معاملہ ایک ایس۔ پی (پولیس افسر) کے ساتھ پیش آیا۔ وہ جیپ پر سفر کر رہا تھا، سامنے ایک لاری والا آگیا۔ بار بار ہارن کے باوجود اس نے پاس نہیں دیا۔ جیپ مجبوراً اس کے پیچھے چلتی رہی۔ یہاں تک کہ ایک بازار آیا جہاں لاری کو سواری اتارنے کے لیے رکنا تھا۔ جیسے ہی لاری کھڑی ہوئی ، ایس پی نے اپنی جیپ لا کر اس کے آگے کھڑی کر دی۔ اور نہایت تیزی کے ساتھ ڈرائیور کو کھینچ کر باہر نکالا اور اس کو مارنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ اس کو بری طرح نڈھال کر دیا۔ بتانے والے نے بتایا کہ اس کے بعد ایک سال تک اس سڑک پر لاری اور ٹرک والے صرف ایک ہارن پر فوراً پاس دے دیا کرتے تھے۔
موجودہ بڑھی ہوئی بدعنوانی کی واحد وجہ یہ ہے کہ لوگوں کے دلوں سے ڈر نکل گیا ہے۔ اگر لوگوں کو یہ اندیشہ ہو کہ وہ جو کچھ کریں گے اس کی سزا انہیں بھگتنی پڑے گی تو وہ کبھی بدعنوانی نہ کریں۔
"پاکستان" کا لفظ اگرچہ بعد کو وضع ہوا، مگر علیحدہ مسلم اسٹیٹ کے تصور کے طور پر سب سے پہلے یہ نظریہ ڈاکٹر محمد اقبال نے الٰہ آباد میں پیش کیا تھا۔ ۱۹۳۰ میں الٰہ آباد میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا :
I would like to see the Punjab, North-west Frontier Province, Sind and Baluchistan amalgamated into a single state. Self-government within the British Empire, or without the British Empire, the forma- tion of a consolidated North-west Indian Muslim State appears to me to be the final destiny of the Muslims, at least of North West India. Speeches, Writings, Statements of Iqbal, edited by Latif Ahmed Sherwani (Iqbal Academy, Lahore, Pakistan 1977). میں یہ دیکھنا پسند کروں گا کہ پنجاب ، شمال مغربی سر حدی صوبہ ، سندھ اور بلوچستان کو ملا کر ایک
‹ Previous page Next page › Contents of July 1987 All issues