Al-Risala · July 1987 · page 31

خلاصه

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۷، صفحہ ۳۱

واحد ریاست بنا دی جائے ۔ ایک خود اختياری حکومت ، خواہ برطانی شہنشاہیت کے تحت يا برطانی شہنشاہیت کے بغیر ۔ شمال مغربی حصہ کو ملا کر ہندوستانی مسلمانوں کی ایک اسٹیٹ کا قیام مجھے مسلمانوں کی آخری تقدیر نظر آتی ہے ، کم از کم شمال مغربی ہندوستان کے لیے ۔

اقبال کو نظر آ رہا تھا کہ غير منقسم ہندوستان میں مسلمانوں کا وجود خطرہ میں ہے ۔ اس لیے انھیں علیحدہ ریاست قائم کرنا چاہیے ۔ مگر بعد کے واقعات نے اس کی تصدیق نہیں کی ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے ترقی کے وہ سارے امکانات پوری طرح موجود تھے جس کے لیے غیر ضروری طور پر انھوں نے پاکستان بنوایا ۔

۲۲۴ فروری کو جب تقریباً ۴۰ آدمیوں کی بارات کے ساتھ الہ آباد سے بمبئی کے لیے بذریعہ ہوائی جہاز روانگی ہوئی تو میں نے سوچا کہ ۴۵ سال پہلے ڈاکٹر اقبال ٹرین پر سوار ہو کر الہ آباد آئے تھے تاکہ مسلمانوں کو یہ خبر دیں کہ غیر منقسم ہندوستان میں تمہارا وجود خطرہ میں ہے ۔ اب ۴۵ سال بعد اسی الہ آباد سے مسلمانوں کا قافلہ ہوائی جہاز سے اپنی منزل کی طرف روانہ ہو رہا ہے ۔ اقبال اگر زندگی کے امکانات کو جانتے تو وہ مسلمانوں کو " علحدگی " کے بجائے " اتحاد " کا مشورہ دیتے ۔ اقبال اور ان کے ساتھی صرف حال کے اندیشوں میں گم تھے ۔ وہ مستقبل کے امکانات کو نہ جان سکے ۔ موجودہ زمانہ میں مسلم رہنماؤں کا یہی فکری افلاس ہے جس کی بنا پر وہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو صحیح رہنمائی دینے میں ناکام رہے ۔

۲۴ فروری کی رات کو ہم لوگ بمبئی پہنچے ۔ بمبئی کے بعض ساتھیوں ( ڈاکٹر عبدالکریم نائک ، نسیم علی خاں صاحب ) کو میرے سفر کی خبر مل گئی تھی ، اس لیے وہ لوگ بھی ایرپورٹ پر آگئے ۔ ان سے مشورہ کے بعد بمبئی کے لیے چند پروگرام طے کیے گئے تاکہ اس قیام کا دعوتی فائدہ بھی حاصل ہو جائے ۔ بمبئی میں میرا قیام ہوٹل میٹرو انٹرنیشنل میں تھا ۔

۲۵ فروری ، ۱۹۷۸ء کی صبح کو پونا اور بمبئی کے کئی ساتھی ہوٹل میں آگئے ۔ ان سے دیر تک گفتگو اور مشورہ جاری رہا ۔

دوپہر کو آل انڈیا ریڈیو کے بمبئی یونٹ میں ایک تقریر ریکارڈ کی گئی جو ۱۲ اپریل کو نشر کی گئی ۔ اس تقریر کا عنوان تھا : فرقہ واریت کا مسئلہ ۔ ریڈیو اسٹیشن کے پروڈکشن اسٹنٹ مسٹر

‹ Previous page Next page › Contents of July 1987 All issues

Printed page