Al-Risala · July 1987 · page 32

Islam and human brotherhood

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۷، صفحہ ۳۲

سریش میر چندانی نے اس کو ریکارڈ کرایا ۔ جب میں فارغ ہو کر اسٹوڈیو سے باہر آیا تو مسٹر چندانی نے کہا کہ آپ کی ٹاک مجھ کو بہت پسند آئی ۔ میں نے کہا کہ اس کی کیا بات آپ کو پسند آئی ۔ انھوں نے کہا کہ آپ نے اپنی ٹاک میں سمرتا کی بات کہی ، اور میں سمجھتا ہوں کہ سمرتا آدمی کی سب سے بڑی صفت ہے ۔

ظہر کی نماز کے بعد روز نامہ انقلاب کے نمائندوں نے انٹرویو لیا ۔ ان کے زیادہ تر سوالات ملی مسائل کے بارہ میں تھے ۔ میں نے کہا کہ اس سلسلہ میں اصل سوال ذہنی نظریہ (Attitude of mind) کا ہے ۔ مسلمان اب تک تعصب کی اصطلاحوں میں سوچتے رہے ہیں ۔ اگر وہ یہ سوچنے لگیں کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ مقابلہ (Competition) کے نتائج ہیں تو ان کی سوچ بدل جائے گی ۔ تعصب کا ذہن آدمی کے اندر مایوسی پیدا کرتا ہے ، جب کہ مقابلہ کا ذہن امید کی راہ کھو لتا ہے ۔

آخر میں ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ مسلمان بھیڑ اور اتحاد میں فرق نہیں کرتے ۔ اسی لیے وہ اکثر غلط فہمی میں پڑ کر ایک چیز کو اتحاد سمجھ لیتے ہیں ۔ حالاں کہ در حقیقت وہ بھیڑ ہوتی ہے ۔ اگر آپ دوسروں کے خلاف چیخ و پکار کے لیے جمع ہوں تو یہ بھیڑ ہے ، اور اگر آپ اپنی اصلاح و تعمیر کے لیے اکٹھا ہوں تو یہ اتحاد ہے ۔ میں نے کہا کہ ایک لفظ میں یہ سمجھ لیجیے کہ : تخریب کے لیے جمع ہونا بھیڑ ہے ، تعمیر کے لیے جمع ہونا اتحاد ہے ۔ یہ انٹرویو اخبار انقلاب (۱۳ ، ۱۸ مارچ ۱۹۸۰) میں شائع ہو چکا ہے ۔

شام کو ۵ بجے انڈو عرب سوسائٹی سوسائٹی(ویر نارائن روڈ) پر ایک تقریر تھی ۔ اس تقریر کا عنوان سوسائٹی والوں نے یہ مقرر کیا تھا :

Islam and human brotherhood

میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہیومن بردر ہڈ در اصل کچھ ہیومن ویلو ز (Human values) سے پیدا ہوتی ہے ۔ یہ ہیومن ویلو ز تاریخ میں سب سے پہلے اسلام نے پیش کیا ۔ مثلاً انسان کی آزادی اور مساوات کے اعلان کے سلسلہ میں اکثر روسو (۷۸ ، ۱-۱۲ ، ۱) کا حوالہ دیا جاتا ہے ۔ اس کی کتاب (سوشل کنٹریکٹ) کا پہلا جملہ یہ ہے : انسان آزاد پیدا ہوا تھا مگر میں اس کو زنجیروں میں جکڑا ہوا

‹ Previous page Next page › Contents of July 1987 All issues

Printed page