Al-Risala · July 1987 · page 33

Islam and human brotherhood

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۷، صفحہ ۳۳

دیکھتا ہوں ۔ لیکن یہ جملہ در حقیقت اس قول کی نقل ہے جو روسو سے بارہ سو سال پہلے حضرت عمرؓ کی زبان سے اس وقت نکلا تھا جب کہ انھوں نے اس نظریہ کو واقعہ بنایا۔ حضرت عمرؓ کی خلافت کے زمانہ میں مصر کے گورنر عمرو بن العاصؓ کے لڑکے نے مصر کے ایک قبطی کو مارا اور اس کی تحقیر کی۔ حضرت عمرؓ نے گورنر اور ان کے بیٹے کو مدینہ بلایا اور قبطی کے ہاتھ میں کوڑا دے کر کہا کہ جس نے تمہیں مارا ہے تم بھی اس کو مارو ۔ چنانچہ اس نے مارا ۔ آخر میں حضرت عمرؓ نے گورنر کو مخاطب کرنے ہوئے کہا: اسے عمرو، تم نے کب سے انسانوں کو غلام بنا لیا حالاں کہ ان کی ماؤں نے ان کو آزاد پیدا کیا تھا (یا عمرو، متی تعبدتم الناس وقد ولدتهم امهاتهم احراراً)

۲۶ فروری کو ۱۰ بجے ملاقات کی ایک نشست ہوئی۔ یہ نشست محبوب اسٹوڈیو کے اندر ہوئی۔ اس نشست میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد شریک تھے۔ زیادہ تر گفتگو سوال و جواب کے انداز میں ہوئی۔ میں نے خصوصیت کے ساتھ یہ بات کہی کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا اصل المیہ یہ ہے کہ ان کے اندر خارجی طرزِ فکر پیدا ہو گیا ہے۔ ہر آدمی کسی دوسرے کو ذمہ دار قرار دے کر اس کے خلاف لکھنے اور بولنے میں لگا ہوا ہے۔ یہ طرزِ فکر غیر عقلی بھی ہے اور غیر اسلامی بھی۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر داخلی طرزِ فکر پیدا کیا جائے ۔ خارجی طرزِ فکر صرف شکایت اور احتجاج کا ذہن پیدا کرتا ہے جب کہ داخلی طرزِ فکر سے عمل کا جذبہ بیدار ہوتا ہے ۔

ایک صاحب نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں ایک بزنس منیجر کے اندر سب سے زیادہ جو چیز دیکھی جاتی ہے وہ یہ کہ اس کے اندر فیصلہ لینے (Decision making) کی صلاحیت ہو۔ یہ بلاشبہ بہت اہم بات ہے اور نہ صرف بزنس میں بلکہ زندگی کے ہر شعبہ میں اس کی اہمیت ہے ۔

اس سلسلہ میں یہاں ایک واقعہ معلوم ہوا جو اس اصول کی بہت اچھی وضاحت کرتا ہے۔ کتابوں کی تجارت کی دنیا میں آج کل ایک طریقہ بہت رائج ہے ۔ وہ یہ کہ کسی مقبول کتاب کو لے کر اس کی نقل کو چھپوا لینا اور اس کو بازار میں فروخت کرنا۔ اس کو عام طور پر قراتی ایڈیشن (Pirate edition) کہا جاتا ہے ۔ یہ لوگ کتاب میں اپنا نام اور پتہ نہیں دیتے ، اس لیے ان کو پکڑنا بے حد مشکل ہوتا ہے ۔ یہ طریقہ عام طور پر زیادہ چلنے والی ناولوں کے سلسلہ میں اختیار کیا جاتا ہے ۔ چند سال ہوئے امریکہ کے مشہور اشاعتی ادارہ پینگون کا چیرمین جاپان جاتے ہوئے بمبئی سے

‹ Previous page Next page › Contents of July 1987 All issues

Printed page