Al-Risala · July 1987 · page 34

Islam and human brotherhood

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۷، صفحہ ۳۴

گزرا۔ وہ بمبئی کے تاج ہوٹل میں ٹرانزٹ مسافر کے طور پر ایک دن کے لیے رکا تھا۔ وہ یہاں کتابوں کے بازار میں گیا تو اس نے دیکھا کہ اس کا چھپا ہوا ایک ناول بمبئی کے بازار میں فروخت ہو رہا ہے۔ یہ کتاب ابھی بالکل حال میں چھپی تھی اور ابھی تک وہ امریکہ سے یورپ کے بازار میں بھی نہیں پہنچی تھی۔ مگر وہ بمبئی کے بازار میں بک رہی تھی۔ یہ دراصل کتاب کا قزاقی ایڈیشن تھا۔ کسی نے امریکہ میں اس کی طباعت کے فوراً بعد اس کا ایک نسخہ حاصل کیا اور اس کا فوٹو لے کر چند دن کے اندر اس کو چھاپا اور اس کو بمبئی کے مارکیٹ میں پہونچا دیا ۔

یہ دیکھ کر پنگوئن کے چیرمین نے فوراً بمبئی میں اپنی اقامت بڑھائی۔ اس نے یہاں کے پبلشرز سے بات چیت کی۔ اس کے بعد ایک پبلشر سے معاہدہ کر لیا۔ اس نے یہ انتظام کیا کہ جو کتاب وہ امریکہ میں چھاپے اس کی کاپی فوراً وہ بمبئی کے پبلشر کو بھیج دے ۔ وہ اس کو فوراً چھاپ کر بمبئی کے بازار میں پہونچا دے۔ یہ طریقہ نہایت کامیاب رہا۔ امریکہ کے دوسرے پبلشروں نے بھی بعد کو اسی کو اختیار کیا۔ یہاں تک کہ قزاقی ایڈیشن چھاپنے والوں کی جڑ کٹ گئی ۔ بمبئی سے مجھ کو بنارس آنا تھا اور وہاں سے پھر اعظم گڑھ کا سفر کرنا تھا۔ بمبئی سے بنارس کا سفر ۲۶ فروری کو فلائٹ نمبر ۱۹۵ کے ذریعہ ہوا۔ درمیان میں موسم بہت خراب ہو گیا ، اعلان ہوا کہ تمام مسافر کرسی کی پیٹی باندھ لیں۔ اچانک مسافروں میں سنسنی پھیل گئی۔ کیوں کہ جہاز اس طرح نیچے اوپر ہونے لگا تھا جیسے ایک ایسی سڑک پر گاڑی دوڑ رہی ہو جس پر جگہ جگہ گہرے گڑھے کھود دیئے گیے ہوں۔ سڑک پر کوئی دوڑتی ہوئی کار اگر اتنا زیادہ نیچے اوپر ہو جتنا جہاز ایسے موقع پر نیچے اوپر ہوتا ہے تو کار الٹ جائے گی اور سفر کا جاری رکھنا نا ممکن ہو جائے گا۔ مگر ہوائی سفر میں بڑے بڑے " فضائی گڑھوں " کے با وجود سفر جاری رہتا ہے۔ یہ بھی ایک خدائی مصلحت ہے ۔ وہ انسان کو موت کے گڑھے میں ڈالتا ہے اور پھر اس سے نکال کر اسے موقع دیتا ہے کہ وہ اپنے رب کا شکر ادا کرے اور آئندہ کے لیے زیادہ عنایات کا مستحق ثابت ہو ۔

۲۶ فروری کی رات کو ہم اعظم گڑھ پہونچے۔ یہاں ۲ مارچ کی صبح تک ۹ بدرقہ ، اعظم گڑھ میں میرا قیام رہا۔ اعظم گڑھ اتر پر دیش کا ایک شہر ہے۔ اس کو ۱۶۶۵ میں راجہ اعظم خاں نے بسایا تھا۔ انھیں کے نام پر وہ اعظم گڑھ کہا جانے لگا۔ ۱۹۱۰ء کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی ۴۰ ہزار تھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1987 All issues

Printed page