Al-Risala · July 1987 · page 35

تمام علوم محنت کی درس گاہ میں پڑھائے جاتے ہیں

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۷، صفحہ ۳۵

اب اس کی آبادی تقریبا دگنا ہو چکی ہے۔

۲۷فروری کو نماز جمعہ جامعۃ الرشاد کی مسجد میں ادا کی۔ نماز جمعہ سے پہلے ایک مختصر تقریر کی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ ایمان واسلام کی حقیقت کیا ہے۔ ۲۸ فروری کو دوبارہ جامعۃ الرشاد میں ایک پروگرام تھا۔ یہ پروگرام عصر کی نماز کے بعد تھا۔ اس موقع پر میں نے اساتذہ اور طلبہ کے سامنے ایک تقریر کی۔ اس تقریر میں زندگی کی تعمیر سے متعلق کچھ باتیں عرض کی گیں۔

۲۷ فروری کو نماز ظہر کے بعد بلریا گنج (اعظم گڑھ) میں ایک پروگرام تھا۔ یہاں جامعۃ الفلاح کے طلبہ اور اساتذہ کے اجتماع میں ایک تقریر کی ۔ اس تقریر کا موضوع تھا: اسلامی دعوت کے جدید امکانات۔ اس تقریر میں کسی قدر تفصیل کے ساتھ اس موضوع کی وضاحت کی گئی۔ ایک طالب علم نے آٹوگراف کی فرمائش کی۔ میں نے ان کی کاپی پر یہ فقرہ لکھ دیا :

تمام علوم محنت کی درس گاہ میں پڑھائے جاتے ہیں

اسی طرح مختلف طالب علموں کی نوٹ بک پر مختلف فقرے تحریر کیے۔ ایک طالب علم کی نوٹ بک پر حسب ذیل فقرہ لکھا :

سب سے مشکل کام اپنے آپ کو جاننا ہے اور سب سے آسان کام دوسروں کو جاننا اعظم گڑھ کے دو روزہ (۲۷۔ ۲۸ فروری) قیام میں بہت سی پرانی یادیں تازہ ہو گئیں۔ ہمارا آبائی وطن اگرچہ قریب کے ایک گاؤں میں تھا ۔ مگر بعد کو ہمارے خاندان کے لوگ شہر منتقل ہو گئے۔ سب سے پہلے میرے چچازاد بھائی اقبال احمد سہیل اعظم گڑھ شہر میں آئے۔ وہ یہاں کے کامیاب ترین وکیل تھے ۔ ۱۹۴۰ کے لگ بھگ زمانہ میں انھوں نے فورڈ موٹر کار منگوائی تو یہ شہر میں دوسری موٹر کار تھی۔ پہلی کار راجہ ہرکھ چند کی تھی اور دوسری کار ہمارے بھائی صاحب کی۔ یہ فورڈ کا ماڈل ۱۹۲۷ تھا۔ ۴۳ ۱۹ میں میرے بھائی عبد العزیز خاں صاحب نے اعظم گڑھ میں کاروبار شروع کیا۔ مگر اعظم گڑھ ابھی تک "چھوٹی لائن" پر ہے۔ اس لیے یہاں تجارتی ترقی کے مواقع نسبتاً کم ہیں۔ چنانچہ ۷۹ ۱۹ میں وہ الہ آباد منتقل ہو گئے۔

۴۰ ۱۹ میں غالباً پہلی بار میں اعظم گڑھ آیا۔ اس وقت کے بعض واقعات اب تک مجھے یاد ہیں۔ میں نے دیکھا کہ شہر کے چوراہہر پر کچھ لوگ چائے فروخت کر رہے ہیں۔ وہ ایک پیسہ میں پانچ پیالی

‹ Previous page Next page › Contents of July 1987 All issues

Printed page