دیا سلیا پیسہ میں سوئیلا چار منافع میں
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۷، صفحہ ۳۶
پائے پلاتے اور اسی کے ساتھ چائے کی پتی کا ایک چھوٹا سا پیکٹ مفت دیتے تھے ۔ اسی طرح میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ دیا سلائی فروخت کر رہے ہیں اور یہ آواز لگا رہے ہیں :
دیا سلیا پیسہ میں سوئیلا چار منافع میں
کچھ لوگ سگریٹ تقسیم کرتے تھے ۔ وہ سگریٹ کا ذخیرہ اپنے ساتھ لیے رہتے اور جہاں کوئی مجمع دیکھتے، بہت سارا سگریٹ ان کے درمیان پھینک دیتے۔ لوگ ان سگریٹوں کو لوٹتے" اور ان کو تماشہ کے طور پر پیتے ۔
یہ اس زمانہ کی باتیں ہیں جو اس ملک میں نصف صدی پہلے پایا جاتا تھا ۔ اس وقت لوگ نئی چیزوں سے آشنا نہ تھے ۔ وہ انھیں خریدنا پسند نہیں کرتے تھے ۔ چنانچہ تاجر طبقہ انھیں نہایت معمولی قیمت پر لوگوں کو دیتا ، بلکہ اکثر اوقات مفت دیتا۔ آج جب لوگ عادی ہوگئے ہیں تو آج حالات بالکل مختلف ہیں ۔
مدرسہ سے نکلنے کے بعد میں نے مختلف علوم کا جو مطالعہ کیا، اس کا ایک زمانہ اعظم گڑھ میں گزرا ہے ۔ یہاں میں انگریزی کتب کے لیے مہتا لائبریری جایا کرتا تھا، اور عربی کتب کے لیے کتب خانہ دار المصنفین ۔ یہ سلسلہ کئی برس تک جاری رہا ۔ مجھے یاد ہے کہ مہتا لائبریری میں جو کتا بیں پڑھنے کے لیے نکالتا تھا ان پر اکثر گرد جمی ہوتی تھی ۔ کیوں کہ سالہا سال سے کسی نے ان علمی کتابوں کو چھوا نہیں تھا۔ یہاں زیادہ تر لوگ اخبار پڑھنے کے لیے آتے تھے ۔ علمی مطالعہ کے لیے آنے والا شاید اکیلا میں ہی تھا ۔
دار المصنفین میں مطالعہ کا ایک تذکرہ میری کتاب (تعبیر کی غلطی ) میں درج ہے ۔ یہ واقعہ مذکورہ کتاب کے دیباچہ میں دیکھا جا سکتا ہے ۔
یکم مارچ کو دار المصنفین دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ علمی ادارہ ۱۹۱۵ء میں مولانا شبلی نعمانی نے قائم کیا تھا ۔ اعظم گڑھ میں قیام کے زمانہ میں میں نے اس کے کتب خانہ سے بہت زیادہ استفادہ کیا ہے ۔ اس زمانہ میں انگریزی کی معلومات میں نے مہتا لائبریری سے حاصل کی تھیں ، اور عربی کی معلومات دار المصنفین کے کتب خانہ سے ۔
دس سال کے بعد یہاں کئی نئی چیزیں نظر آئیں۔ انھیں میں سے ایک چیز میوزیم ہے ۔ اس
‹ Previous page Next page › Contents of July 1987 All issues