دیا سلیا پیسہ میں سوئیلا چار منافع میں
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۷، صفحہ ۳۴
کے اندر بہت سی نادر چیزیں رکھی ہوئی ہیں ۔ فارسی کی ایک کتاب (مخطوطہ) ہے جس کا نام مونس الارواح ہے ۔ یہ جہاں آرا بیگم کی تصنیف ہے اور ۱۰۶۸ ھ میں سونے کی رنگ کاری کے ساتھ نہایت اہتمام کے ساتھ لکھی گئی تھی ۔ یہاں سب سے نادر کتاب یہی ہے ۔ وہ خود جہاں آرا بیگم کے استعمال میں رہ چکی ہے ۔ لندن کی نمائش ۱۹۱۱ میں یہ کتاب ۱۵ ہزار روپیہ میں انشورڈ کر کے بھیجی گئی تھی ۔
اس میوزیم میں مولانا شبلی نعمانی کا مصنوعی پاؤں بھی رکھا ہوا ہے ۔ بندوق چل جانے سے مولانا شبلی کا پاؤں زخمی ہو گیا تھا جو بعد کو کاٹ دیا گیا ۔ اس وقت نواب بھاول پور نے خاص اہتمام سے لکڑی کا پاؤں تیار کرا کے بھیجا جس کو وہ آخر تک استعمال کرتے رہے ۔ پاؤں کٹنے کے واقعہ پر شعراء نے حسن تعلیل کے انداز میں بہت سے اشعار کہے تھے ۔ ان میں سے ایک قطعہ یہ تھا: :
شکسته پائی مقدر تھی سر نوشت میں بھی نہ ہاتھ آئے گا اب کچھ بھی ہاتھ ملنے سے عدم کی دور ہے منزل نہ جا سکیں گے حضور چلے گا قوم کا کام آپ کے نہ چلنے سے ہماری قوم کے شاعروں نے شکستہ پائی میں حسنِ تعلیل کے نکتے پائیے ۔ مگر ہماری قوم کے قائدین ملت کی شکست میں فتح کا پہلو دریافت نہ کر سکے ۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلی ایک صدی کی مدت چیخ پکار کی سیاست کی نذر ہو گئی ، اس مدت میں کوئی دور رس مثبت کام نہ کیا جا سکا ۔ دار المصنفین میں سید صباح الدین عبدالرحمن صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ انھوں نے دار المصنفین کی تازہ مطبوعہ کتاب اسلام اور مستشرقین (پانچ حصے) تحفہ میں دیئے ۔ ۱۹۱۱ میں جنیوا یونیورسٹی کے ایک عیسائی پروفیسر نے مختلف اسلامی موضوعات پر سات لکچر دیئے تھے ۔ یہ لکچر فرانسیسی زبان میں تھے ۔ ان کا عربی ترجمہ اسی زمانہ میں بیروت سے شائع ہوا تھا ۔ مولانا سید سلیمان ندوی نے ان میں سے ایک لکچر کا خلاصہ ایک عربی رسالہ سے لے کر معارف میں شائع کیا تھا ۔ اس خلاصہ کو مذکورہ کتاب کی پانچویں جلد میں نقل کیا گیا ہے ۔
اس لیکچر میں کہا گیا ہے کہ اسلام ابتدا میں جزیرہ نمائے عرب سے نکل کر جس تیزی سے دنیا میں پھیلا ہے اور اپنی اشاعت میں اس نے جو کامیابی حاصل کی ہے وہ بہت ہی حیرت انگیز
‹ Previous page Next page › Contents of July 1987 All issues