Al-Risala · July 1987 · page 38

دیا سلیا پیسہ میں سوئیلا چار منافع میں

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۷، صفحہ ۳۸

ہے۔ اس کے اسباب کی تفصیل میں تمام مورخین سخت حیران ہیں۔

اس سلسلہ میں صاحب لکچر نے جو باتیں لکھی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ مسلمان جس ملک میں گیے وہاں انھوں نے عام ہر دلعزیزی حاصل کی۔ وہ اس ملک یا قوم کے مانوس رسوم و عادات سے سکوت کرتے ہیں ، وہ ان کو بدلنے کی کوشش نہیں کرتے ۔ غلط مذہبی تخیلات اور مذہبی تہواروں سے چشم پوشی کرلیتے ہیں۔ اس طرح اس قوم کے افراد کو اسلام بظاہر کوئی نیا مذہب نہیں معلوم ہوتا۔ اور وہ اس میں رفتہ رفتہ جذب ہو جاتے ہیں (صفحہ ۶۰) اسی طرح صاحب لکچر نے لکھا ہے کہ چین میں یہ مشاہدہ ہوا ہے کہ پرجوش مسلمانوں نے شانگ ٹونگ کے ہیبت ناک قحط کے زمانہ میں دس ہزار بچوں کو خرید لیا، اور اسلامی تعلیم و تربیت نے ان بچوں کو مسلمان گھرانوں میں بدل دیا ۔ ___________ موجودہ زمانہ کے مسلمان تہذیبی تفریق میں اپنی زندگی کا راز تلاش کر رہے ہیں، قدیم مسلمانوں نے تہذیبی یگانگت میں اپنی زندگی کا راز دریافت کیا تھا۔ گاؤں کے ایک آدمی سے ملاقات ہوئی ۔ انھوں نے اس علاقہ کے دیہاتوں کے احوال بتائے ۔ انھوں نے کہا کہ "ہمارے دیہات اب شہر ہورہے ہیں۔ لوگ بڑی تعداد میں باہر چلے گیے ہیں اور کافی پیسہ کما رہے ہیں۔ وہ لوگ جن کا حال پہلے یہ تھا کہ جسم پر پورے کپڑے نہیں ہوتے تھے۔ پاؤں جوتے سے خالی ہوتے تھے۔ اب انھوں نے کئی منزل کے پختہ مکانات بنا لیے ہیں۔ ان کے دروازے پر کار اور ٹریکٹر کھڑے ہوئے ہیں۔

اس طرح کی تفصیلات سن کر مجھے ایک حدیث یاد آگئی۔ یہ ایک لمبی حدیث ہے۔ اس میں قیامت کی نشانیاں بتاتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر دی ہے کہ قیامت کی ابتدائی علامتوں میں سے ایک یہ ہے کہ تم دیکھو گے کہ بے لباس اور ننگے پاؤں والے لوگ ایک دوسرے سے بڑھ کر اونچی عمارتیں بنائیں گے (وترى العراة الحفاة يتطاولون في البنيان) موجودہ دنیا کے احوال پر جب میں غور کرتا ہوں تو مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قیامت اب قریب آچکی ہے۔ بظاہر لوگ اس طرح زندگی گزار رہے ہیں جیسے کہ وہ ان سے بہت دور ہو۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ قیامت لوگوں سے بہت قریب ہے ۔ اور بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے کہ وہ ان کے اوپر اس طرح پھٹ پڑے گی کہ وہ نہ اس کو روک سکیں گے اور نہ ان کے لیے یہی ممکن ہوگا کہ اس سے

‹ Previous page Next page › Contents of July 1987 All issues

Printed page